’سزائے موت کا حکم تھا۔۔۔ اب شادی کروں گا‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 12 فروری 2013 ,‭ 13:21 GMT 18:21 PST
مصری خان کی ہلاکت کے معاملے میں سزا پانے والے افراد

کلدیپ سنگھ کا کہنا ہے کہ انہیں لگنے لگا تھا زندگی اب ختم ہونے والی ہے

اٹھائیس سالہ بھارتی شہری کلدیپ سنگھ کو متحدہ عرب امارات میں ایک پاکستانی شہری کی ہلاکت کے الزام میں سزائے موت کا حکم ہوا تھا لیکن اب وہ خوں بہا دے کر رہا ہوئے ہیں اور اپنے ملک واپس آگئے ہیں۔

کلدیپ سنگھ کا کہنا ہے کہ ’سزائے موت کے حکم کے بعد ایسا لگ رہا تھا جیسے بس زندگی کے کچھ ہی دن بچے ہیں۔ لیکن اب مجھے نئی زندگی ملی ہے۔ اب میں شادی کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہوں۔‘

کلدیپ سنگھ ان سترہ افراد میں شامل تھے جنہیں متحد عرب امارات میں پاکستانی شہری مصری خان کی ہلاکت کا قصوروار ٹھہرایا گیا تھا اور سزائے موت دی گئی تھی۔

لیکن دبئی میں رہنے والے بھارتی تاجر ایس پی سنگھ اوبرائے نے سبھی مجرمان کی رہائی کے لیے دس لاکھ ڈالر جمع کیے اور مصری خان کے خاندان والوں کو معاوضے کے طور پر دیے جس کے بعد کلدیپ سنگھ سزائے موت سے بچ گئے۔

مقامی قانون کے مطابق اگر ہلاک ہونے والے شخص کے لواحقین قتل کے بدلے میں معاوضے کے طور پر پیسے لینے کے تیار ہوجائیں تو سزا معاف کردی جاتی ہے۔

یہ معاملہ دو ہزار نو کا ہے جب غیر قانونی شراب خریدنے پر مبینہ طون پر جھگڑے میں مصری خان کی موت ہوگئی تھی۔ اس واقعے میں دو افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔

"ہم پولیس سے کہتے رہے کہ ہم نے کچھ نہیں کیا ہے لیکن ہماری سننے والا کوئی نہیں تھا۔ پھر ایک دن ہمیں سزا سنا دی گئی"

کلدیپ سنگھ

متحدہ عرب امارات کی ایک عدالت نے دو ہزار دس میں اس معاملے میں سترہ افراد کو سزائے موت سنائی تھی۔

ایس پی سنگھ کا کہنا ہے ’ذیلی عدالت نے انہیں موت کی سزا دی تھی۔ اس بارے میں نے اخبار میں پڑھا تھا۔ اہلکاروں سے بات کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ اگر متاثرہ خاندان کو معاوضہ دے دیا جائے تو انہیں بچایا جاسکتا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’میں نے کسی تنظیم یا کسی شخص سے پیسے نہیں لیے ۔ میں نے خود ہی رقم کا انتظام کیا۔‘

ان افراد میں سے سولہ کا تعلق پنجاب سے ہے جبکہ ایک کا تعلق ریاست ہریانہ سے ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کلدیپ سنگھ نے کہا، ’میں اب کبھی بھارت سے باہر جانے کے بارے میں سوچوں گا بھی نہیں۔ میں قرض لے کر دبئی دولت کمانے گیا تھا۔ لیکن جو دن ہم نے دیکھے ہیں اب ہم کبھی ملک سے باہر جانے کے بارے میں نہیں سوچ سکتے ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ انہیں دبئی گئے ہوئے دو مہینے ہی ہوئے تھے کہ پولیس نے انہیں گرفتار کرلیا۔ ’ہم پولیس سے کہتے رہے کہ ہم نے کچھ نہیں کیا ہے لیکن ہماری سننے والا کوئی نہیں تھا۔ پھر ایک دن ہمیں سزا سنا دی گئی۔‘

کلدیپ کا کہنا ہے کہ اس پورے واقعے سے ان کے گھر والوں کو بے حد صدمہ ہوا ہے ۔ اس درمیان ان کے بڑے بھائی کو دورہ پڑا اور ان کی موت ہوگئی۔

کلدیپ سنگھ کا کہنا ہے کہ اب وہ حکومت ہند سے گزارش کریں گے کہ انہیں روزگار فراہم کرانے میں مدد کی جائے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔