آسام:پولیس اور قبائلیوں کی جھڑپ، دس ہلاک

آخری وقت اشاعت:  منگل 12 فروری 2013 ,‭ 09:12 GMT 14:12 PST

جھڑپوں میں پولیس کے تین اہلکار بھی زخمی ہوگئے ہیں

بھارت کی شمالی مشرقی ریاست آسام میں حکومت کا کہنا ہے کہ پنچایت انتخابات کے آخری مرحلے کی پولنگ کے درمیان پولیس اور قبائلیوں کے درمیان جھڑپ میں دس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

ریاست کے داخلہ سیکرٹری گیانیندرہ ترپھاٹی نے فون پر بی بی سی اردو سروس کو بتایا کہ گوہاٹی سے ایک سو چونتیس کلومیٹر دور گوالپاڑے ضلع کے پانچ مختلف مقامات پر پنچایت الیکشن کے لیے ہونے والے پولنگ سٹیشنوں پر پولیس اور قبائلی علاقوں کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں جس میں پولیس کی فائرنگ سے دس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

گوہاٹی میں مقامی نامہ نگار دگجیوتی لہکر نے بی بی سی کو بتایا کہ جہاں یہ جھڑپیں ہوئی ہیں وہاں کے قبائلی لوگ پنچایت کے انتخابات کی مخالفت کر رہے ہیں اور ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت انیس سو چھیانوے میں کیےگئے وعدے کے مطابق وہ وہاں خودمختار کونسل ہی قائم کرے۔

واضح رہے کہ رابہا قبائل سے تعلق رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ ان کے علاقوں میں رابہا ہسونگ خود مختار کونسل کے ہوتے ہوئے پنچایت انتخابات نہیں ہونے چاہیں۔

گیانیندرہ ترپھاٹی کا کہنا ہے کہ حکومت کے اعلان کے مطابق ان علاقوں میں خودمختار کونسل قائم ہے لیکن اس کے لیے انتخابات پہلی بار تیس اپریل کو ہونے ہیں۔

اس بارے میں داخلہ سیکرٹری گیانیندرہ ترپھاٹی کا کہنا ہے کہ حکومت کا ماننا ہے کہ خودمختار کونسل کے ساتھ ساتھ ان علاقوں میں پنچایت کے انتخابات بھی ضروری ہیں کیونکہ صرف خودمختار کونسل کا انتخاب ایک ’غیر آئینی عمل ہوگا‘۔

گیاندرہ ترپھاٹی نے پولیس کی جانب سے فائرنگ کا دفاع کرتے ہوئے کہا ’گوالپاڑہ کے چار علاقوں کاہی باڑی، کاچودل، سولوپاتھر، اور پلسر پنچایت کے انتخابات کے لیے پولنگ جاری تھی کہ تبھی بعض مشتعل قبائلی افراد نے پولنگ سٹیشنوں اور پولیس پر حملے شروع کر دیے جس کے بعد پولیس کو فائرنگ کرنی پڑی‘۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا یہ قبائلی مسلح تھے جو پولیس کو فائرنگ کرنی پڑی تو انہوں نے کہا کہ ’ان افراد کے پاس اسلحہ یا بندوقیں تو نہیں تھیں لیکن وہاں موجود لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے پولیس نے فائرنگ کی‘۔

گیاندرہ ترپھاٹی کا کہنا تھا کہ ان جھڑپوں میں پولیس کے تین اہلکار زخمی ہوئے ہیں جبکہ سی آر پی ایف کی دو گاڑیوں کو آگ لگائی گئی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والے افراد کی ابھی شناخت نہیں ہوئی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔