بھارت: ہیلی کاپٹر خرید کا معاملہ کیا ہے؟

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 14 فروری 2013 ,‭ 13:43 GMT 18:43 PST
ہیلی کاپٹر

یہ ہیلی کاپٹر انتہائی عمدہ اور جدید ٹکنالوجی سے لیس ہیں

اٹلی میں طیارے اور دفاعی سازو سامان کی سب سے بڑی کمپنی فن میکانیکا کے سربراہ کو گزشتہ دنوں بھارتی حکام کو رشوت دینے کے الزام میں ملان میں گرفتار کیا گیا۔ اس کے بعد بھارت میں بھی یہ معاملہ پیچیدہ ہو گیا ہے۔

مرکزی وزیر دفاع اے کے انٹونی نے ایک پریس كانفرنس میں کہا کہ اس معاملے میں جو بھی قصوروار پایا جائے گا اسے بخشا نہیں جائے گا۔

ہندوستان کی حکومت نے اس معاملے میں اپنی سربراہ تفتیشی ادارے سی بی آئی کے ذریعے جانچ کرانے کا حکم دیا ہے۔ اگر بدعنوانی اور رشوت ستانی کا معاملہ صحیح ثابت ہوتا ہے تو اٹلی کی کمپنی کے ساتھ ہیلی کاپٹر کا یہ سودا منسوخ کیا جا سکتا ہے۔

کیا ہے یہ تنازع اور اس کا بھارت پر کیا اثر پڑے گا؟ اس کے بارے میں بی بی سی ہندی کے اروند چھابڑا نے جینز ڈیفنس ویکلی کے بھارتی نامہ نگار راہول بیدی سے بات کی اور ان سے اس سودے کی باریکیوں کے بارے میں پوچھا۔

اطالوی کمپنی سے خریدے جانے والے اگسٹا ویسٹ لینڈ نامی ہیلی کاپٹر ایسے طیارے ہیں، جنہیں حکومت انتہائی اہم لوگوں کی آمد و رفت کے لیے خرید رہی ہے۔

اس سے قبل اس کام کے لیے روسی طیارہ مگ 8 اور مگ 17 استعمال ہوتے تھے جو کہ اب کافی پرانے ہو چکے ہیں۔ اس کی جگہ مارچ میں بھارت نے اٹلی کو اگسٹا ویسٹ لینڈ ساخت کے بارہ ہیلی کاپٹر کا آرڈر دیا۔

یہ انتہائی عمدہ قسم کے ہیلی کاپٹر ہیں اور ان میں دو کے بجائے تین انجن ہوتے ہیں جسے کے باعث اس کی کارکردگی اور رینج کافی بہتر ہے۔

اب کیا ہوگا؟

"ہم تین ہیلی کاپٹر واپس نہیں کر سکتے اور نہ ہی اسے چلا سکتے ہیں کیونکہ اسے چلانے کے لیے جو دیگر آلات چاہیے وہ ہمارے پاس نہیں ہیں"

راہول بیدی

انھوں نے کہا کہ مگ 60-70 کی دہائی کی ٹیکنالوجی ہے جبکہ اگسٹا سنہ 2000 کی ٹیکنالوجی ہے اس لیے دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔

بھارت نے جن بارہ ہیلی کاپٹروں کا آرڈر دیا ہے ان کا ماڈل ہے اے ڈبليو 101۔ ان میں سے آٹھ تو انتہائی خاص لوگوں یعنی صدر، وزیر اعظم اور سینئر سیاست داں کے آنے جانے کے لیے ہے۔ ان آٹھ ہیلی کو اس طرح بنایا گیا ہے کہ ان میں ایک ساتھ دس مسافر بیٹھ سکتے ہیں۔ باقی چار ہیلی کاپٹرز میں تیس ایس پی جی کمانڈوز سفر کر سکتے ہیں۔

جب ان ہیلی کاپٹروں کی ڈیل ہوئی تھی اس وقت 12 ہیلی کے لیے تقریباً پونے ارب ڈالر یا 3500 - 3600 کروڑ روپے قیمت کا اعلان ہوا تھا۔ یہ کافی مہنگا ہے، اس قسم کے ہیلی کاپٹر میں سب سے مہنگا ہے۔

انھوں نے اس کی قیمت پر مزید کہا کہ امریکہ بھی اسی وجہ سے اسے نہیں خرید پایا۔ وہاں کی حکومت اپنے پرانے ہیلی کاپٹر کو ہی اپگریڈ کرنے کی گنجائش پر کام کررہی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ بھارت میں دفاعی سودے کی خریدو فروخت کی نئی پالیسی 2005 میں شروع جس میں ایک ایمانداری کی شق ڈالی گئی اور ہر سودے میں اس پر دستخط کی جاتی ہے۔

اس میں یہ لکھا ہوتا ہے کہ کسی بھی وقت اگر یہ پتہ چل جائے کہ اس میں کسی مڈل مین کا عمل دخل ہے تو ڈیل منسوخ ہو جائے گی۔ پیسہ واپس کیا جائے گا۔ اس کمپنی سے تمام تعلقات توڑ لیے جائیں گے اور اسے بلیک لسٹڈ کر دیا جائے گا۔

فن میکانیکا

فن میکانیکا کے بھارت کے ساتھ کئی معاہدے ہیں

گزشتہ آٹھ سال میں اس شق کا کبھی استعمال نہیں ہوا۔ لیکن موجودہ تنازع اسی شرط پر ہے۔ اطالوی کمپنی نے بھی بھارت کو کہا تھا کہ اس معاہدے میں کوئی مذل مین نہیں ہے۔ اس معاملے کی جو جانچ اٹلی میں ہوئی ہے اس کے مطابق اس میں تین مذل مین تھے، دو اطالوی اور ایک انگریز۔

انھوں نے بتایا کہ ان لوگوں نے بھارتی حکام کو چار سو سے پانچ سو کروڑ روپے تک کی رشوت دی ہے۔

ان بارہ میں سے تین ہیلی کاپٹر گزشتہ دسمبر تک بھارت کو موصول ہو چکے تھے باقی نو جون اور جولائی تک آنے والے تھے۔ لیکن اب بھارتی وزیر دفاع نے ان طیاروں کے آنے پر پابندی لگا دی ہے۔ ان کے مطابق سی بی آئی کی جانچ کے بعد ہی اس پر کوئی فیصلہ ہوگا۔

اب صورتحال کیا ہے اس کے بارے میں کسی کو کوئی علم نہیں۔ انھوں نے کہا ’ہم تین ہیلی کاپٹر واپس نہیں کر سکتے اور نہ ہی اسے چلا سکتے ہیں کیونکہ اسے چلانے کے لیے جو دیگر آلات چاہیے وہ ہمارے پاس نہیں ہیں۔‘

واضح رہے کہ ان ہیلی کاپٹر کو بنانے والی کمپنی فن میکانیکا کے بھارت کے ساتھ دفاعی شعبہ میں کئی معاہدے ہیں۔ وہ بھارت میں سالانہ 30 سے 40 کروڑ ڈالر کی تجارت کر رہی ہے۔ اگر اس پر پابندی لگ گئی تو بھارتی فوج کی تجدید کاری کی رفتار سست پڑ جائے گی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔