ویرپن ڈاکو کے ساتھیوں کی پھانسی پر روک

آخری وقت اشاعت:  پير 18 فروری 2013 ,‭ 11:40 GMT 16:40 PST
پھانسی

بھارت میں گزشتہ چند مہینوں میں دو افراد کو پھانسی دی گئی ہے

بھارت کی سپریم کورٹ نے کرناٹک کے خونخوار ڈاکو ویرپن کے چار ساتھیوں کی پھانسی کی سزا پر عمل درآمد کو روکنے کا حکم دیا ہے۔

ان چارون کو کرناٹک میں ایک بارودی سرنگ کے ذریعے بائیس افراد کو ہلاک کرنے کے جرم میں دوہزار چار میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔

صدر مملکت پرنب مکھرجی نے گزشتہ ہفتے ان چاروں افراد کی رحم کی درخواست مسترد کر دی تھی۔ چاروں مجرموں نے رحم کی اپیل مسترد کیے جانے کے جواز کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔

ملک کے اٹارنی جنرل جی ای واہنوٹی نے پٹیشن پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یہ قابل سماعت نہیں ہے۔

چیف جسٹس الطمش کبیر کی سربراہی میں عدالت عظمی کی ایک بنچ نے عرضی کی سماعت کے لیے بدھ کا دن مقرر کیا ہے۔

عدالت نے حکم دیا ہے کہ ’اس دوران چاروں قصورواروں کی پھانسی پر عملدرآمد پر روک لگی رہے گی‘۔

بنچ نے کہا کہ کہ اس عرضی کی سماعت کا مطلب یہ ہے کہ اس کے بارے میں جو بھی فیصلہ ہو گا اس کا اثر سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کے قتل کے مجرم کی رحم کی اپیل مسترد کیے جانے کے حلاف دائر کی گئ درخواست پر بھی پڑے گا ۔

دلی میں ہمارے نامہ نگار شکیل اختر کا کہنا ہے کہ ایک ہفتے قبل موت کی سزا پانے والے افضل گرو کے وکیلوں کا کہنا ہے افضل کی پھانسی میں حکومت نے اتنی راوداری اس لیے برتی تھی تاکہ وہ رحم کی اپیل مسترد ہونے کے بعد اس کے خلاف دوبارہ سپریم کورٹ میں نہ جا سکے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔