کشمیر: فوج پر خاتون کی ہلاکت کا الزام

آخری وقت اشاعت:  پير 18 فروری 2013 ,‭ 09:01 GMT 14:01 PST
کشمیر مظاہرہ

کشمیر میں ہلاکت کے تازہ واقعے کے خلاف مظاہرہ جاری ہے

افضل گورو کی پھانسی کے خلاف دس روزہ کشیدگی کے بعد ابھی حالات معمول پر نہیں آنے پائے تھے کہ پیر کے روز جنوبی کشمیر کے بعض اضلاع میں پرتشدد مظاہرے ہوئے ہیں، جس کے بعد وہاں کے حساس علاقوں میں سکیورٹی پابندیاں نافذ کر دی گئی ہیں۔

عینی شاہدین نے بی بی سی کو بتایا کہ جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کی رہنے والی 57 سالہ بیوہ نذیرہ بیگم کی لاش لے کر پیر کی صبح سینکڑوں لوگوں نے جلوس نکالا اور ضلع کی بڑی شاہراہ پر دھرنا دیا۔

مظاہرین کا الزام ہے کہ فوج اور پولیس نے نذیرہ بیگم کے گھر میں اتوار کی شب چھاپہ مارا اور انھیں ہلاک کردیا۔

ضلع کے اعلیٰ پولیس افسر محمد شفیع میر نے بتایا کہ پولیس اور فوج کو خفیہ اطلاع ملی تھی کہ چیوہ ڈارہ گاؤں میں نذیرہ بیگم کے گھر میں عسکریت پسندوں نے پناہ لے رکھی ہے۔

محمد شفیع کے مطابق: ’پولیس اور فوج کے مشترکہ دستے نے مکان کا محاصرہ کیا اور جونہی دروازے پر دستک دی تو نذیرہ بیگم غش کھاکرگر پڑیں اور بعد میں ڈاکٹروں نے بتایا کہ حرکت قلب بند ہونے سے ان کی موت ہوگئی۔‘

لیکن مظاہرین نے الزام عائد کیا ہے کہ چھاپہ مارنے والے فوجی اہلکاروں نے نذیرہ بیگم پر تشدد کیا جس سے ان کی موت ہوگئی۔ انہوں نے مجسٹریٹ سطح کی تحقیقات اور فوج اور پولیس کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

مظاہروں کو کولگام تک ہی محدود کرنے کی غرض سے کولگام ضلع اور بعض اندرونی دیہات میں سیکورٹی پابندیاں نافذ کی گئی ہیں۔

دریں اثنا کولگام کے نزدیکی ضلع پلوامہ میں پیر کی صبح مُورن اور راج پورہ بستیوں میں مقامی نوجوانوں نے احتجاجی مظاہرے کیے جس کے بعد پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید تصادم ہوئے۔ پلوامہ کے اکثر بازار بند ہیں اور ضلع میں فوج اور پولیس مشترکہ گشت کررہی ہے۔

واضح رہے کہ نو فروری کو دلّی کی تہاڑ جیل میں افضل گورو کو پھانسی دیے جانے کے بعد دس روز تک کشمیر میں حالات کشیدہ رہے۔ اس دوران کرفیو نافذ کیا گیا لیکن کئی علاقوں میں لوگوں نے مظاہرے کیے۔

افضل کا خط

افضل گورو کا پھانسی سے قبل لکھا خط کئی دنوں بعد کھولا گیا

ان مظاہروں کے خلاف پولیس کارروائیوں میں تین نوجوان ہلاک ہوگئے۔ پیر کو کسی بھی علیٰحدگی پسندگروپ نے ہڑتال کی کال نہیں دی تھی، لہٰذا مجموعی طور پر عام زندگی بحال ہوگئی ہے۔ تاہم علیٰحدگی پسند رہنماؤں کو ابھی تک رہا نہیں کیا گیا ہے۔

افضل گورو کا خط

اس دوران افضل گورو کی اہلیہ تبسم گورو نے افضل کا وہ آخری خط میڈیا کے لیے جاری کردیا ہے جو انہوں نے پھانسی سے ڈیڑھ گھنٹہ قبل نو فروری کی صبح لکھا تھا۔ اہل خانہ اور اہل ایمان کو مخاطب کرتے ہوئے افضل گورو نے اللہ کا شکر ادا کیا ہے کہ اس نے ’مجھے اس مقام کے لیے چنا۔‘ انہوں نے کشمیریوں اور اپنے اہل خانہ سے اپیل کی ہے وہ ان کے اس مقام پر افسوس کرنے بجائے اس کا احترام کریں۔

ساڑھے چھ سطروں پر مشتمل یہ خط تہاڑ جیل نمبر تین کے سپرنٹنڈنٹ نے 11 فروری کو افضل گورو کی اہلیہ کے سپرد کیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔