حیدرآباد بم دھماکوں پر پاکستان کی شدید مذمت

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 22 فروری 2013 ,‭ 08:45 GMT 13:45 PST

دھماکوں کے وقت جائے وقوع پر بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے

پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان معظم احمد خان نے بھارتی شہر حیدرآباد میں گزشتہ رات کو دو بم دھماکوں کی شدید مذمت کی ہے جن کے نتیجے میں چودہ افراد ہلاک جبکہ 119 زخمی ہو گئے تھے کہا ہے کہ کسی بھی قسم کی دہشت گردی عالمی اور امن اور سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔

بھارتی وزیر داخلہ سشیل کمار شندے نے حیدرآباد میں اس جگہ کا دورہ کیا جہاں گزشتہ رات کو دو بم دھماکوں میں چودہ افراد ہلاک جبکہ 119 زخمی ہو گئے تھے۔

بھارتی وزیر داخلہ نے جمعرات کو کہا تھا کہ یہ بم دو بائی سائیکلوں پر رکھے تھے جو پھلوں کی ایک مصروف مارکیٹ میں ایک دوسرے سے تقریباً ایک سو پچاس میٹر کے فاصلے پر کھڑے کیے گئے تھے۔

اب تک کسی گروہ نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تمام بڑے بھارتی شہروں کو ہائی الرٹ پر کر دیا گیا ہے جبکہ پولیس ان دھماکوں کی تحقیقات کر رہی ہے۔

جمعے کو انہوں نے حیدرآباد کے علاقے دل سکھ نگر کا دورہ کیا جہاں جمعرات کی شام سات بجے کے قریب یہ دھماکے ہوئے تھے۔

بھارتی وزیر داخلہ نے بعض زخمیوں کی عادت بھی کی اور رپورٹروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ایک سو انیس زخمیوں میں سے چھ کی حالت نازک ہے‘۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ ان دھماکوں کے پیچھے کس کا ہاتھ ہو سکتا ہے تو انہوں نے کہا کہ ’اس وقت ہم کچھ نہیں کہ سکتے کیونکہ یہ معاملہ ابھی زیر تفتیش ہے۔‘

جمعرات کو پولیس کا کہنا تھا کہ ایک دھماکہ بس سٹینڈ اور ایک تھیٹر کے باہر ہوا جبکہ ریاستی حکومت نے اسے ’دہشت گردی کی کارروائی‘ قرار دیا ہے۔

جس جگہ یہ دھماکے ہوئے ہیں وہ مصروف علاقے ہیں اور اطلاعات کے مطابق دھماکوں کے وقت وہاں بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے۔

ان دھماکوں کے بعد فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں اور زخمیوں کو قریبی ہسپتالوں میں لے جایا گیا۔

وزیر داخلہ سشیل کمار شندے نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ’میری ابھی ابھی آندھراپردیش کے وزیر اعلی سے بات ہوئی ہے۔ انہوں نے مجھے بتایا ہے کہ دو موٹر سائیکلوں پر دھماکے ہوئے ہیں جن میں سے ایک میں آٹھ اور دوسرے میں تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ وزیرِاعلیٰ جائے وقوع پر ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’یہ نہیں کہہ سکتے ہیں کہ دھماکوں کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے تاہم ان کے پاس اس طرح کی خفیہ اطلاعات تھیں کہ ملک میں کہیں بھی اس طرح کا دھماکے ہو سکتے ہیں۔‘

مرکزی سیکرٹری داخلہ آر کے سنگھ نے دو دھماکوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہمارے پاس دو بم دھماکوں کی اطلاع ہے۔ جہاں دھماکہ ہوا ہے اس مقام کوگھیرے میں لے لیا گیا ہے تاکہ ثبوت جمع کیے جا سکیں۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’این آئی اے کے عہدیدار کے مقام پر پہنچ گئے ہیں۔ آئی بی کے بھی عہدیدار وہاں پہنچ رہے ہیں۔ ہم پولیس کے سربراہ اور وزیر داخلہ سے بھی رابطے میں ہیں۔‘

خیال رہے کہ حیدرآباد میں دو ہزار سات کے بعد پہلی بار بم دھماکے ہوئے ہیں۔ اس وقت مکہ مسجد سمیت تین مقامات پر دھماکے ہوئے تھے۔

جب وہ تین دھماکے ہوئے تھے تب بھی ایک بم دل سكھ نگر میں رکھا گیا تھا مگر اسے غیر فعال کر دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔