کشمیر: گورو کی باقیات کے مطالبہ پر کشیدگی

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 22 فروری 2013 ,‭ 07:11 GMT 12:11 PST

تہاڑ جیل سے افضل کے باقیات کی واپسی کے خلاف علیٰحدگی پسندوں نے احتجاجی تحریک کا آغاز کیا ہے

بھارتی پارلیمان پر حملے کی سازش کے مبینہ مجرم افضل گورو کو خفیہ طور دلّی کی تہاڑ جیل میں پھانسی دیے جانے کے دو ہفتوں بعد بھی بھارت کے زیرِانتظام کشمیر میں حالات بدستور کشیدہ ہیں۔ تہاڑ جیل سے افضل کے باقیات کی واپسی کے خلاف علیٰحدگی پسندوں نے احتجاجی تحریک کا آغاز کیا ہے جس کے خلاف حکومت نے دوبارہ سیکورٹی کے حوالے سے پابندیاں نافذ کردی ہیں۔

تین روزہ ہڑتال کے تیسرے روز جمعہ کو حکومت نے سرینگر اور دیگر قصبوں میں بھاری تعداد میں پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں کو تعینات کرکے گاڑیوں اور لوگوں کی آمدورفت پر پابندی عائد کردی ہے۔ اس دوران حریت کانفرنس (گ) کے رہنما سید علی گیلانی نئی دلّی میں اپنی رہائش گاہ پر بدستور نظربند ہیں۔

حُریت کانفرنس (میرواعظ گروپ) کے رہنما میرواعظ عمرفاروق کو نئی دلّی سے کشمیر آنے کی اجازت دی گئی تاہم جمعرات کو سرینگر پہنچنے پر انہیں حراست میں لیا گیا اور پولیس کے پہرے میں انہیں گھر لے جایا گیا جہاں ان کی نقل و حرکت پر بھی پابندی ہے۔

پولیس کے سربراہ اشوک پرساد نے کہا ہے کہ ’علیحدگی پسندوں پر پابندیاں نافذ کرنا ایک مجبوری ہے۔‘

یٰسین ملک اور سید علی گیلانی نے جمعہ کے روز مظاہروں کی اپیل کی تھی، لیکن حکومت نے سیکورٹی پابندیاں نافذ کردیں۔ تاہم سرکاری طور کرفیو چلانے کا اعلان نہیں کیا گیا۔

اس دوران گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے اور مظاہریں پر کالی مرچ سے بنی گیس کی گولیاں پھینکنے سے متعدد نوجوان زخمی ہوگئے ہیں۔ عسکری گروپ العمر مجاہدین کے کمانڈر مشتاق زرگر کے اہل خانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ پولیس نے ان کےگھر پر چھاپہ مارا اور وہاں خواتین پر تشدد کیا۔

واضح رہے پندرہ سال قبل مسلح عسکریت پسندوں نے بھارتی فضائی کمپنی انڈین ائیر لائن کی پرواز نمبر آئی سی 814 کو نیپال سے اغوا کرکے افغانستان کے قندہار شہر میں اُتار لیا تھا۔ اغوا کاروں کے ساتھ مذاکرات کے بعد مسافروں کی رہائی کے عوض اُس وقت کے بھارتی وزیرخارجہ جسونت سنگھ نے مشتاق زرگر، مسعود اظہر اور دیگر تین عسکری کمانڈروں کو طیارے میں سوار کر کے طالبان کے سپرد کردیا تھا۔

مشتاق زرگر کے گھر پر پولیس کے چھاپے کے خلاف کالعدم تنظیم لشکرِ طیبہ نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ لشکر کے ترجمان ڈاکٹرعبداللہ غزنوی نے تنظیم کے سربراہ محمود شاہ کے حوالے سے بی بی سی کو بتایا کہ اگر ان کے کمانڈروں کے گھر والوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کا عمل بند نہ کیا گیا تو اس کا ردِ عمل دیا جاسکتا ہے۔

دریں اثنا نظربندی کے دوران جاری کئے گئے ایک بیان میں میرواعظ عمرفاروق نے علیحدگی پسند قیادت سے اپیل کی ہے کہ وہ افضل گورو کی لاش کو واپس لانے کے لئے مشترکہ پالیسی مرتب کریں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔