دلی ریپ: 17 سالہ لڑکے پر فردِ جرم عائد

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 28 فروری 2013 ,‭ 17:17 GMT 22:17 PST
دہلی ریپ

مقدمے کی باقاعدہ سماعت چھ مارچ سے شروع ہو گی

بھارت میں ایک عدالت نے دارالحکومت دلی میں ایک لڑکی کو گینگ ریپ کے بعد ہلاک کرنے کے الزام میں باضابطہ طور پر ایک سترہ سالہ لڑکے پر فردِ جرم عائد کی ہے۔

جووینائل جسٹس بورڈ یعنی بچوں کے انصاف کی عدالت نے لڑکے پر ریپ، قتل اور اغوا سمیت دیگر جرائم کی فردِ جرم عائد کی ہے اور اس مقدمے کی سماعت کا آغاز چھ مارچ سے ہو گا۔

اگر اس لڑکے پر جرم ثابت ہو جاتی ہے تو وہ زیادہ سے زیادہ تین سال ایک اصلاحی سہولت میں گزارے گا۔

پانچ دوسرے مشتبہ افراد پر خصوصی طور پر بنائی جانے والی ایک فاسٹ ٹریک عدالت میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے اور انہیں سزائے موت کا سامنا ہے۔

اس سفاکانہ حملے نے بھارت کو ہلا کر رکھ دیا اور اس کے بعد ملک بھر میں خواتین کے ساتھ برتاؤ پر ایک بحث اٹھ کھڑی ہوئی۔

سولہ دسمبر کو دلی میں فزیوتھراپی کی طالب علم اور ان کے مرد دوست پر ایک بس میں حملہ کیا گیا تھا جس کا شکار ہونے والی لڑکی کا نام قانونی وجوہات کی بناء پرظاہر نہیں کیا جا سکتا۔

پولیس نے کہا کہ حملہ آوروں نے ان دونوں کو مارا پیٹا اور پھر لڑکی کو ریپ کیا جس میں ایک آہنی راڈ کا استعمال بھی کیا گیا جس کے وجہ سے ان کو بہت زیادہ اندرونی چوٹیں آئیں اور تقریباً دو ہفتے بعد انہیں اندرونی چوٹوں کے باعث ان کی موت واقع ہو گئی۔

لڑکی کو اور ان کے ساتھی کو اس سفاکانہ ریپ اور تشدد کے بعد چلتی بس سے باہر پھینک دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔