کشمیر: مسلح حملہ، دو پولیس اہلکار ہلاک

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 2 مارچ 2013 ,‭ 10:05 GMT 15:05 PST

مقامی وزارتِ داخلہ کے ایک افسر نے بتایا کہ جموں کشمیرآرمڈ پولیس کےکانسٹیبل سنتوش اور کانسٹیبل آزاد چند سرینگر سے شمال کی جانب پچہتر کلومیٹر دور ہندوارہ قصبہ کے بس اڈے پر ڈیوٹی پر تعینات تھے

بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے شمالی قصبہ ہندوارہ میں سنیچر کی صبح نامعلوم اسلحہ برداروں نے دو پولیس اہلکاروں پر نزدیک سے گولیاں چلائیں، جسکے نتیجہ میں دونوں موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔

مقامی وزارتِ داخلہ کے ایک افسر نے بتایا کہ جموں کشمیرآرمڈ پولیس کےکانسٹیبل سنتوش اور کانسٹیبل آزاد چند سرینگر سے شمال کی جانب پچہتر کلومیٹر دور ہندوارہ قصبہ کے بس اڈے پر ڈیوٹی پر تعینات تھے۔

ہندوارہ میں تعینات اعلیٰ پولیس افسر محمد اسلم نے بی بی سی کو بتایا کہ ’سنیچر کی صبح پرہجوم بس اڈے پر تعینات دونوں اہلکاروں پر نامعلوم اسلحہ برداروں نے سائلینسر لگے پستول سے گولیاں چلائیں ۔دونوں کی ہلاکت موقع پر ہی واقع ہوگئی۔‘

یہ واقعہ ایک ایسے وقت رونما ہوا ہے جب جموں کشمیر کی حکومت نے پولیس کو لامحدود اختیارات دینے سے متعلق ایک نئے قانون کا مسودہ تیار کرلیا ہے۔ اگر اس قانون کو اسمبلی اور کابینہ نے منظور کرلیا تو پولیس کسی ہجوم پر فائرنگ کرنے کے لئے مجسٹریٹ کی اجازت کی محتاج نہیں ہوگی۔ اس کے علاوہ اگر کسی شخص کو احتجاجی مظاہروں کی پیشگی اطلاع ہو تو وہ پولیس کو خبر کرنے کا پابند ہوگا۔ ایسا نہ کرنے پر اس کے خلاف کارروائی ہوسکتی ہے۔

اس مسودے کو یہاں کے علیحدگی پسندوں اور ہند نواز اپوزیشن نے ’ظالم کا فرمان‘ قرار دیا ہے۔ زبردست مخالفت کے بعد وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے کہا کہ اس مسودے کے بارے میں سبھی حلقوں سے مشاورت کی جائے گی۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران پولیس کے خلاف کئی عسکری گروہوں نے بیانات دیے اور انہیں وارننگ دی کہ ’اپنے لوگوں پر ظلم نہ کریں۔‘ تاہم ابھی تک کسی بھی عسکری گروپ نے ان ہلاکتوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

واضح رہے ہندوارہ ، جہاں پولیس اہلکاروں کو ہلاک کیا گیا، افضل گورو کے آبائی قصبہ سوپور کا قریبی قصبہ ہے۔ افضل گورو کو نو فروری کی صبح دلّی کی تہاڑ جیل میں پھانسی دی گئی اور وہیں دفن کیا گیا۔ ان کے باقیات کو واپس لانے کے لئے کشمیر میں سیاسی اور سماجی حلقوں نے ایک تحریک کا آغاز کیا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔