فوجیوں کی واپسی سے انکار، اطالوی سفیر کی طلبی

آخری وقت اشاعت:  بدھ 13 مارچ 2013 ,‭ 01:53 GMT 06:53 PST

اطالوی فوجی ضمانت پر تھے اور مقدمے کا انتظار کر رہے تھے

بھارت نے اٹلی کے سفیر کو طلب کر کے دو اطالوی فوجیوں کو واپس بھارت نہ بھیجنے کے فیصلے پر اپنے غصے کا اظہار کیا ہے۔

دو اطالوی فوجیوں پر الزام ہے کہ انہوں نے فروری سال دو ہزار بارہ میں دو بھارتی ماہی گیروں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

بھارت کے سیکریٹری خارجہ رانجن مِتھائی کے مطابق بھارت میں اطالوی سفیر کو طلب کر کے انہیں بتایا ہے کہ اٹلی کی وضاحت’ناقابل قبول‘ ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت اٹلی کی دلیل کو سختی سے رد کرتا ہے۔

خیال رہے کہ اٹلی کا ماننا ہے کہ یہ پورا واقعہ بین الاقوامی سمندری حدود میں پیش آیا تھا اور یہ معاملہ بھارتی عدالتوں کے دائرۂ کار سے باہر ہے اس لیے اس کے فوجیوں پر مقدمہ اٹلی میں ہی چلے لیکن بھارت اس سے اتفاق نہیں کرتا۔

سیکریٹری خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق’اطالوی سفیر کو بتا دیا گیا ہے کہ بھارت اٹلی سے ایک ایسے ملک کی توقع کرتا ہے جو قانون کی حکمرانی اور بھارتی سپریم کورٹ کو دیے گئے خودمختار وعدے کا پابند ہو۔‘

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ’ صرف اس پر عمل کیا جائے گا کہ اطالوی حکومت کی دیکھ بھال اور نگرانی میں دونوں فوجی سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق اٹلی جائیں اور چار ہفتوں تک وہاں قیام کریں ۔‘

اس سے پہلے منگل کو بھارتی پارلیمان میں بھی اپوزیشن ارکان نے یہ معاملہ اٹھایا اور سوال کیا کہ حکومت ان فوجیوں کی واپسی کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہے۔

پارلیمان کے باہر بھارتی وزیرِ خارجہ سلمان خورشید نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اطالوی حکومت کے خط کا جائزہ لے رہی ہے۔

اٹلی کی وزارت خارجہ نے پیر کو کہا تھا کہ بھارت میں قتل کے الزامات کا سامنا کرنے والے دو اطالوی فوجی بھارت واپس نہیں جائیں گے۔

اطالوی وزارت خارجہ کے مطابق بھارت کو اس بارے میں باضابطہ طور پر مطلع کر دیا گیا ہے۔ اٹلی کا کہنا ہے کہ اس نے بھارت پر زور دیا تھا کہ وہ معاملے کا سفارتی حل ڈھونڈے لیکن بھارت نے جواب نہیں دیا۔

بھارتی عدالت نے اطالوی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے لیے دونوں فوجیوں کو وطن واپسی کی اجازت دی تھی

بھارتی سپریم کورٹ نے جنوری میں کہا تھا کہ ان کے خلاف دلی کی خصوصی عدالت میں مقدمہ چلے گا۔

بھارتی عدالت نے اٹلی میں ہونے والے عام انتخابات میں ووٹ دینے کے لیے ان دونوں کو چار ہفتے کے لیے اپنے ملک جانے کی اجازت دی تھی اور اب ان دونوں فوجیوں کو واپس نہیں بھیجا جا رہا۔

اس سے قبل دسمبر 2012 میں بھی انہیں کرسمس منانے کے لیے اٹلی جانے کی اجازت بھی ملی تھی جس کے بعد وہ بھارت واپس آگئے تھے۔

ہلاک ہونے والے دو ماہی گیروں کے اہلخانہ سے ایک معاہدے کے تحت اٹلی کی حکومت نے انہیں ایک، ایک کروڑ روپے بطور زرِ تلافی دینے کی پیشکش کی تھی لیکن اب یہ معاملہ دونوں ملکوں کے درمیان ایک سفارتی تنازع کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

اسی معاملے پر گزشتہ سال اٹلی نے بھارت سے اپنے سفیر کو واپس بلا لیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔