ریپ کے ملزم رام سنگھ کی چتا نذرِ آتش

آخری وقت اشاعت:  بدھ 13 مارچ 2013 ,‭ 07:04 GMT 12:04 PST
رام سنگھ

رام سنگھ دلّی ریپ کیس کے چھ ملزمان میں سے ایک تھے

بھارتی دارالحکومت دلّی میں ایک چلتی بس میں گینگ ریپ کے چھ ملزمان میں سے ایک رام سنگھ کی آخری رسومات ان کے آبائی گاؤں کالندہ میں ادا کر دی گئی ہیں۔

رام سنگھ پیر کی صبح دلّی کی تہاڑ جیل میں اپنی سیل میں مردہ پائے گئے تھے اور ان کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے بعد ان کے اہلخانہ کے حوالے کر دیا گیا تھا۔

ان کے وکلاء اور اہلخِانہ نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ انہیں قتل کیا گیا ہے۔

تہاڑ جیل کے ترجمان سنیل گپتا نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ رام سنگھ نے پیر کی صبح پانچ بجے کمبل کی مدد سے بنائی گئی رسّی کی مدد سے بظاہر خودکشی کی تھی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مجسٹریٹ کے ذریعے معاملے کی تفتیش کا حکم دے دیا گیا ہے۔

بھارت کے وزیرِ داخلہ کا کہنا ہے کہ دلّی ریپ کیس کے ملزم رام سنگھ کی جیل میں ہلاکت سکیورٹی کی بڑی ناکامی ہے جس کی تحقیقات کی جائیں گی۔

رام سنگھ کی لاش کو دلّی میں واقع آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس ہسپتال سے منگل کو پوسٹ مارٹم کے بعد اہل خانہ کے حوالے کر دیا گیا۔

لاش کو ریاست راجستھان کے ضلع قرولی میں واقع ان کے گاؤں کالندہ لے جایا گیا تھا جہاں بدھ کو ان کی چتا کو آگ لگا دی گئی۔

"میرے بھائی کا قتل ہوا ہے۔ میں نے ان کے جسم پر زخموں کے نشان اور گلے پر انگلیوں کے نشان دیکھے ہیں"

رام سنگھ کا بھائی

بھارتی خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق رام سنگھ کے بھائی نے کہا: ’میرے بھائی کا قتل ہوا ہے۔ میں نے ان کے جسم پر زخموں کے نشان اور گلے پر انگلیوں کے نشان دیکھے ہیں۔‘

رام سنگھ کی موت سے حکام کو کافی خفت ہوئی جو کہ پہلے سے ہی اس معاملے کے متعلق کافی دباؤ میں تھے۔

واضح رہے کہ گزشتہ سولہ دسمبر کو دلی کی ایک چلتی ہوئی بس میں 23 سالہ پیرا میڈیکل طالبہ کے ساتھ اجتماعی جنسی زیادتی کی گئی تھی جس میں طالبہ بری طرح زخمی ہوئی تھیں اور بعد میں سنگاپور کے ایک ہسپتال میں علاج کے دوران ہلاک ہو گئی تھیں۔

رام سنگھ اسی بس کا ڈرائیور تھا جس میں طالبہ کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی تھی۔ اس معاملے میں رام سنگھ کے علاوہ ان کے بھائی مکیش اور تین دیگر افراد کے خلاف بھی مقدمہ چل رہا ہے جبکہ چھٹا ملزم نابالغ ہے اور اس کا معاملہ نابالغوں کی عدالت میں چل رہا ہے۔ ان تمام افراد نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

اس واقعہ کے بعد ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے ہوئے اور عوام کے سخت دباؤ کے بعد حکومت نے خواتین کے لیے جنسی تشدد کے قانون میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے آرڈیننس جاری کیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔