بہار:خصوصی ریاست کا درجہ دلوانے کا مطالبہ

آخری وقت اشاعت:  اتوار 17 مارچ 2013 ,‭ 10:16 GMT 15:16 PST
بہار ادھیکار ریلی

بہار کو مخصوص ریاست کا درجہ دلانے کے لیے دلی کے رام لیلا میدان میں پچاس ہزار سے زیادہ لوگ جمع ہوئے۔

بھارتی دارالحکومت دلّی کے رام لیلا میدان میں بہار کو خصوصی ریاست کا درجہ دلانے کا مطالبہ لے کر جنتا دل یونائٹیڈ (جے ڈی یو) نے بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار کی قیادت میں اتوار کو ایک ریلی منعقد کی جس میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔

بی بی سی ہندی کے نامہ نگار منی کانت ٹھاکر کا کہنا ہے کہ وزیر اعلی نتیش کمار نے ریلی کی تیاری میں اپنی ساری طاقت لگا دی ہے جبکہ نامہ نگار پون نارا کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد ملکی سطح پر اپنے آپ کو ایک بڑے رہنما کے طور پر پیش کرنا ہے۔

پارٹی کے تمام سرکردہ رہنما اور رضاکار ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے دلی پہنچے۔ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے بہار کے وزیر اعلٰی نتیش کمار نے کہا کہ ’ہم بھیک نہیں مانگ رہے ہیں بلکہ اپنا حق مانگ رہے ہیں۔‘

انھوں نے کہا ’مرکزی حکومت بھی یہ تسلیم کرتی ہے کہ بہار پسماندہ ریاست ہے اور وزیر خزانہ نے کہا ہے کہ ریاست کو مخصوص درجہ دینے کی شرطوں پر نظر ثانی کی ضرورت ہے اور یہ صحیح وقت ہے جب مرکزی حکومت بہار کو مخصوص درجہ دے۔‘

بہر حال مبصرین کا خیال ہے کہ ہے کہ خصوصی ریاست کا درجہ محض ایک بہانہ ہے۔ اس ریلی کو منعقد کرنے کے پسِ پشت بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار کا اصل مقصد کچھ اور ہے۔

کہا جا رہا ہے کہ نتیش اس ریلی کے ذریعے اپنا سیاسی رتبہ دکھانا یا اپنا سیاسی قد بڑھانا چاہتے ہیں کیونکہ یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ موجودہ شرائط اور معیار کے تحت بہار یا دیگر پسماندہ ریاستوں کو خصوصی زمرہ میں رکھنا مرکزی حکومت کے لیے قطعی ممکن نہیں ہوگا۔ اس کے لیے معیار اور شرائط کا تبدیل کرنا بھی آسان نہیں ہے، کیونکہ اگر ایسا ہوا تو اس وقت کئی ریاستوں سے ایسے مطالبات اٹھ کھڑے ہوں گے۔

بہار ریلی

اس ریلی میں دلی میں رہنے والے بہار کے باشندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی

مبصرین کا کہنا ہے کہ اس ریلی میں جے ڈی یو اور کانگریس کے اپنے اپنے مفاد چھپے ہیں۔ انتخابی نشان تیر والی اس سیاسی جماعت جے ڈی یو کو اپنی حلیف جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر چوٹ لگانے میں کانگریس کا مبینہ تعاون حاصل ہے۔

یہ بات بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ بی جے پی کے بعض حلقے نریندر مودی کو آنے والے انتخابات میں پارٹی کی جانب سے وزیر اعظم کے امیدوار کے طور پیش کرنا چاہتے ہیں اور نتیش کمار اس کے مخالف ہیں۔ اور حزب اختلاف کے اتحاد این ڈی اے کی اہم حلیف جماعت میں جے ڈی یو بھی شامل ہے۔

اس ریلی میں نتیش نے دیہی بھارت اور شہری بھارت یعنی بھارت اور انڈیا کی خلیج کو کم کرنے کی بات کی۔

نتیش کمار کے حامیوں کی جانب سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ دو ہزار چودہ کے پارلیمانی انتخابات سے پہلے اگر گجرات کے وزیر اعلٰی نریندر مودی کو وزیر اعظم کے عہدے کے امیدوار کے طور پر پیش کیا گیا تو بہار کے مسلم ووٹرز راشٹریہ جنتا دل اور سابق وزیراعلٰی اور وزیرِ ریل لالو پرساد یادو کے حق میں متحد ہو جائیں گے جس سے حالیہ حزب اختلاف کا اتحاد متاثر ہوگا۔

واضح رہے کہ جنتا دل یونائٹیڈ نے اپنی اس ریلی سے بی جے پی کو علیحدہ رکھا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔