’اطالوی سفیر کو قانونی استثنیٰ حاصل نہیں‘

آخری وقت اشاعت:  پير 18 مارچ 2013 ,‭ 13:08 GMT 18:08 PST

اطالوی سفیر نے فوجیوں کی واپسی کی یقین دہانی کرائی تھی

بھارت کی سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ دلی میں اٹلی کے سفیر ڈینیئل منچنی کو قانونی استثنیٰ حاصل نہیں رہا اور عدالت کا ان پر سے اعتماد اٹھ گیا ہے۔

جن دو اطالوی فوجیوں پر بھارت میں مقدمہ چل رہا تھا انہیں ڈینیئل منچنی کے اس حلف نامے کی بنیاد پر واپس جانے دیا گيا تھا کہ وہ دوبارہ واپس آئیں گے۔

لیکن جب اٹلی کی حکومت نے انہیں دوبارہ واپس نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا تو بھارتی سپریم کورٹ نے معاملے کی سماعت کے بعد اٹلی کے سفیر کو ملک نہ چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔

پیر کو اس معاملے کی سماعت کے موقع پر اٹلی کے سفیر کے وکیل نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ ڈینیئل منچنی کو سفارتی استثنی حاصل ہے لیکن عدالت نے اس موقف کو مسترد کر دیا۔

چیف جسٹس التمش کبیر کی سربراہی والے تین رکنی بینچ نے کہا ’جو شخص عدالت میں پیش ہوکر عہد کرتا ہے اسے استثنی حاصل نہیں رہتا۔‘ چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ’عدالت کو اٹلی کے سفیر ڈینیئل مچینی پر اعتبار نہیں رہا۔‘

کورٹ نے اس معاملے کی دوبارہ سماعت کی تاریخ دو اپریل طے کی ہے اور ایک بار پھر تاکید کی ہے کہ اگلی سماعت تک سفیر بھارت سے باہر نہیں جا سکتے۔

اس فیصلے کے بعد دلی میں وزارت خارجہ کے ترجمان اکبر الدین نے ایک بیان میں کہا کہ حکومت سپریم کورٹ کے احکامات کی پابند ہے اور وہ اس پر عمل در آمد کریگی۔

لیکن اطلاعات کے مطابق اٹلی کی حکومت نے دلی کو ایک نوٹ بھیج کر بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کو یہ کہہ کر چیلنج کیا ہے کہ یہ فیصلے ویانا کنونشن کی خلاف ورزیاں ہیں۔

تاہم بھارت کا کہنا ہے کہ سفیر نے خود عدالت کے سامنے آپ کو پیش کرکے یہ ذمہ داری لی تھی۔

خیال رہے کہ بھارت کے جنوبی شہر کوچی کے سمندری ساحل پر اطالوی تیل بردار ٹینکر کی نگرانی کرنے والے دو اطالوی فوجیوں نے بھارتی ماہی گیروں کو بحری قزاق سمجھ کر ان پر گولی چلا دی تھی۔

اس حادثے میں دو ماہی گیر ہلاک ہوئے تھے اور ان دونوں اطالویوں کوگزشتہ برس حراست میں لیا گیا تھا۔

سپریم کورٹ نے ان دونوں ملزمان کو فروری میں چار ہفتے کے لیے اپنے ملک جانے کی اجازت دی تھی جس کی وجہ اطالوی عام انتخابات کے دوران ووٹ ڈالنا بتائی گئی تھی۔

یہ دونوں اسے سے قبل کرسمس کی چھٹیوں میں بھی اپنے ملک گئے تھے تاہم وقتِ مقررہ میں واپس آگئے تھے لیکن گزشتہ پیر کو اطالوی حکومت نے کہا تھا کہ یہ اب واپس بھارت نہیں جائیں گے اور اٹلی اس معاملے پر عالمی ثالثی کے لیے تیار ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔