سوئس خاتون ریپ: چھ افراد گرفتار

آخری وقت اشاعت:  پير 18 مارچ 2013 ,‭ 11:25 GMT 16:25 PST
سوئس خاتون کے ساتھ ریپ کے ملزمان

ایک اعدادوشمار کے مطابق ہر بیس منٹ میں ریپ کے واقعات ہوتے ہیں

بھارت کی وسطی ریاست مدھیہ پردیش کی پولیس نے کہا ہے کہ سوئٹزرلینڈ کی ایک سیاح کے ساتھ عصمت دری کے معاملے میں چھ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

پولیس نے کہا ہے کہ اس نے جنگل میں اپنے شوہر کے ساتھ کیمپنگ کرنے والی اور چھٹی منا رہی اس 39 سالہ خاتون کا کچھ سامان بھی برآمد کیا ہے جن میں ان کا موبائل فون اور لیپ ٹاپ شامل ہے۔

بی بی سی ہندی کے نامہ نگار سلمان راوی سے بات چیت کے دوران پولیس انسپکٹر جنرل ایس ایم افضل نے کہا: ’ہم نے چھ ملزمان کو گرفتار کیا ہے جنہوں نے سوئس خواتین کے ساتھ جنسی تشدد کیا ہے۔‘

گرفتار لوگوں کی شناخت بابا، بوتھا، رامپرو، برجیش، وشنو كنجر اور نتن كنجر کے طور پر کی گئی ہے۔

ان میں سے پانچ افراد کو اتوار دن گرفتار کیا گیا جبکہ نتن کو نواڑي میں اتوار کی شام کو گرفتار کیا گیا۔

پولیس کے نائب انسپکٹر جنرل ڈی کے آريا نے کہا کہ تمام ملزمان نے یہ تسلیم کیا کہ یہ حملہ جمعہ کی رات کو ہوا۔ انہیں آج سوموار کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

ملزمان نے پولیس کو بتایا کہ سات یا آٹھ افراد سوئس خاتون کے ساتھ اجتماعی جنسی زیادتی کی تھی۔ لیکن چونکہ اندھیرا تھا اس لیے وہ حملہ کرنے والوں کی صحیح تعداد نہیں بتا سکتے ہیں۔

متاثرہ سوئس خاتون

متاثرہ 39 سالہ سوئس خاتون اپنے شوہر کے ساتھ چھٹی منانے بھارت کے دورے پر تھیں

چھٹی منانے کے لیے تین ماہ کے بھارت کے دورے پر آیا یہ سوئس جوڑا مدھیہ پردیش کے اورچھا سے آگرہ تک سائیکل سے سفر کر رہا تھا۔ اسی دوران ایک رات انہوں نے دتيا کے جھاڑيا گاؤں کے پاس کیمپ لگایا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاتون کا گوالیار میں علاج کیا گیا جہاں سے بعد میں انہیں دلّی بھیج دیا گیا۔ کہا جارہا ہے کہ متاثرہ خاتون صدمے میں ہیں۔

اس سے پہلے پولیس نے گرفتار کیے گئے چھ لوگوں حاصل معلومات کی بنیاد پر 20 افراد کو حراست میں لیا ہے۔

گزشتہ سال دسمبر میں دلّی اجتماعی جنسی زیادتی کے معاملے کے بعد جنسی تشدد کے حوالے سے آئی بیداری کے درمیان مقامی حکام پر اس معاملے کو جلد سے جلد حل کرنے کا دباؤ ہے۔

رائٹرز کے مطابق بھارت کے نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے اعداد و شمار کہتے ہیں کہ بھارت میں ہر بیس منٹ میں ایک عورت کے ساتھ ریپ کا معاملہ پیش آتا ہے۔

لیکن پولیس کا کہنا ہے کہ عام طور پر جنسی زیادتی کے دس معاملات میں سے تقریباً چار ہی پولیس تک پہنچ پاتے ہیں کیونکہ متاثرین یا ان کا خاندان شرمندگی کی وجہ سے ہی ایسے معاملات کو چھپا لیتے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔