بھارت:حکمراں اتحاد سے اہم جماعت الگ

آخری وقت اشاعت:  منگل 19 مارچ 2013 ,‭ 07:45 GMT 12:45 PST
کرونا ندھی

ڈی ایم کے برسر اقتدار یوپی اے اتحاد کی اہم جماعت ہے

کانگریس کی قیادت والے بھارت کے حکمراں اتحاد یو پی اے یعنی یونائیٹڈ پروگرسیو الائنس سے اس کی ایک اہم حلیف جماعت ڈی ایم کے نے اپنی حمایت واپس لینے کا اعلان کیا ہے۔

اس حمایت کے واپس لیے جانے سے حکومت کے اقلیت میں آنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے لیکن بھارت کے وزیر خزانہ پی چدامبرم نے کہا ہے کہ حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔

ڈی ایم کے جنوبی ہندوستان کی ریاست تمل ناڈو کی اہم جماعت ہے۔

ڈی ایم کے کے رہنما ایم کروناندھی نے کہا ہے کہ ان کی پارٹی نے یہ فیصلہ سری لنکا میں تمل باشندوں سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر لیا ہے۔

تمل ناڈو کے دارالحکومت چنّئی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ’ڈی ایم کے ہمیشہ سے تمل باشندوں کے لیے کام کرتی رہی ہے اور وہ سری لنکا حکومت کے خلاف بھارت کی جانب سے سخت موقف کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ایسی حکومت میں شامل رہنا سری لنکا میں بسنے والے تمل نسل کے لوگوں کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔

بہرحال انہوں نے کہا کہ اگر حکومت پارلیمان میں ایسی قرارداد لاتی ہے جس میں’سری لنکا پر نسل کشی کا الزام‘ ہو تو وہ اپنی حمایت واپس لینے کے فیصلے کو بدلنے کے لیے تیار ہیں۔

کرونا ندھی نے کہا ہے کہ مرکز میں ان کی پارٹی کے وزراء بھی جلد ہی مستعفی ہو جائیں گے۔ واضح رہے کہ ان کی مرکز میں پارٹی کے پانچ وزراء ہیں جبکہ پارلیمان میں ان کے نمائندوں کی کل تعداد اٹھارہ ہے۔

جب یوپی اے کی سربراہ سونیا گاندھی سے اس بابت دریافت کیا گیا تو انھیں نے کہا کہ ان کے پاس کہنے کے لیے کچھ نہیں ہے۔

پی چدامبرم نے کہا ہے کہ’حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے، حکومت مستحکم ہے۔‘

دریں اثنا یہ خبریں بھی آ رہی ہیں کہ حمایت واپس لینے کے اعلان کے بعد بھارت کے حصص بازار کے انڈیکس میں گراؤٹ آئی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔