سیاستدانوں میں سوشل میڈیا کا بڑھتا رجحان

آخری وقت اشاعت:  منگل 19 مارچ 2013 ,‭ 11:45 GMT 16:45 PST
فیس بک

بھارت میں دس فی صد آبادی انٹرنٹ استعمال کر رہی ہے

بھارت میں انٹرنیٹ کا استعمال کرنے والوں میں اضافے کے ساتھ سیاست دانوں میں بھی انٹرنیٹ کے ذریعے لوگوں تک پہنچنے کا رجحان بڑھ رہا ہے

حال ہی میں وزیر خزانہ پی چدمبرم نے انٹرنیٹ کے ذریعے نوجوانون، تجزیہ نگاروں یہاں تک کہ کسانوں کے ساتھ رابطہ قائم کیا اور بجٹ کے متعلق ان کے سوالات کے جوابات دیے۔

گوگل کے ہینگ آوٹ پروگرام میں ویڈیو کانفرنسنگ اور گوگل پلس سوشل نیٹ ورک کے ذریعے وہ ملک کے ایسے جوانوں سے روبرو ہوئے جو انٹرنیٹ میں دلچسپی لیتے ہیں اور اسے کثرت سے استعمال کرتے ہیں۔

جنوبی بھارت کے شہر بنگلور سے ایک خاتونِ خانہ نے ان سے موبائل فون اور گھر کے باہر ریستوراں یا ہوٹل میں کھانے پر ٹیکس بڑھائے جانے پر سوال کیا تو انھوں نے کہا کہ اگرچہ قیمتیں بڑھ رہی ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ لوگوں کی آمدنی بھی تو بڑھ رہی ہے۔

انھوں نے کہا ’مجھے متوسط طبقے کی شکایت تو سمجھ میں آتی ہے۔ لیکن جو لوگ زیادہ کما رہے ہیں انھیں تو ٹیکس دینا پڑے گا کیونکہ میں غریب لوگوں پر ٹیکس تو نہیں لگا سکتا۔‘

ان کے اس پروگرام کو اسی دن سماجی رابطے کی ویڈیو سائٹ یوٹیوب پر 38 ہزار دو سو بار دیکھا گیا۔ بھارت کے زیادہ تر اہم نیوز چینلز نے اسے براہ راست نشر بھی کیا تھا۔

منموہن سنگھ

بھارتی وزیر اعظم کا ٹوئیٹر اکاؤنٹ ان کی میڈیا ٹیم دیکھتی ہے

سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک اور ٹوئٹر پر بھی لوگوں نے اسے ہیش ٹیگ کے ساتھ کافی شیئر کیا۔

واضح رہے کہ 2012 کے آخر تک بھارت میں ایک اندازے کے مطابق پندرہ کروڑ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے تھے اور بھارت میں اتنے ہی ٹی وی سیٹ بھی ہیں۔

ان میں سے ساڑھے چھ کروڑ لوگوں کے فیس بک اکاؤنٹ ہیں اور ساڑھے تین کروڑ ٹوئٹر اکاؤنٹ ہیں۔ مجموعی طور پر بھارت کی ایک ارب بیس کروڑ آبادی کا یہ 10 فی صد بنتا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ 2020 تک بھارت میں امریکہ سے زیادہ افراد انٹر نیٹ پر ہونگے۔

سوال و جواب کی ویب سائٹ ’کورا‘ کے مطابق ان کی ویب سائٹ پر سوال و جواب کے پروگراموں میں امریکہ سے زیادہ افراد بھارت سے شامل ہو رہے ہیں۔

واضح رہے کہ جیسے جیسے بھارت میں عام انتخابات کے دن قریب آ رہے ہیں سیاست دان نوجوان ووٹروں سے جڑنے اور ویب سے اچھی طرح متعارف ہونے کی ضرورت محسوس کر رہے ہیں۔

یہاں تک کہ بھارت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ جنہیں لوگوں کی رسائی کے لیے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے ان کا بھی گزشتہ سال ٹوئٹر اکاؤنٹ کھولا گیا ہے جسے ان کی میڈیا ٹیم چلاتی ہے اور ان کے ساڑھے چار لاکھ سے زیادہ فالورز ہیں۔

بھارت کے مرکزی اطلاعات اور نشریات کے وزیر منیش تیواری کا کہنا ہے کہ وہ ملک میں سائبر انقلاب لائیں گے اور وہ بھارت کی پیچیدہ دفتر شاہی کو ڈیجیٹل دنیا میں لانے کا پروگرام رکھتے ہیں۔

حکومت اسی سلسلے میں ایک سوشل میڈیا محکمہ قائم کرنے جا رہی ہے جس کے تحت سرکاری افسران کے فیس بک اور ٹوئٹر اکاؤنٹس بھی ہونگے۔

نریندر مودی

گجرات کے گزشتہ انتخابات میں ڈیجیٹل میڈیا کا استعمال ہوا تھا

ویسے ٹوئٹر پر سب سے زیادہ ٹوئیٹ کرنے والے بھارتی سیاست دان انسانی وسائل کے جونیر وزیر ششی تھرور ہیں جن کے 16 لاکھ فالوورز ہیں۔ وہ کئی بار اسکی وجہ سے تنازعات کا شکار بھی ہو چکے ہیں جیسا کہ دو ہزار نو میں انھوں نے ’کیٹل کلاس‘ یعنی مویشیوں کا طبقہ اور ’ہولی کاؤز‘ یعنی مقدس گائے کا طنزیہ ٹوئیٹ کیا تھا۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال فیس بک پر کمنٹ اور لائک کرنے کے لیے بھارت کی مغربی ریاست مہاراشٹر میں دو لڑکیوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔ اس سے قبل بھارت نے ہتک آمیز کمنٹس کی نگرانی کے لیے سیل بنانے کی بھی بات کی تھی۔

گزشتہ انتخابات میں گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی نے تھری ڈی ہولوگرافک ٹیکنالوجی کا استعمال کیا تھا اور انھوں نے ایک ساتھ مختلف مقامات پر پچاس ریلیوں سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے خطاب بھی کیا تھا۔

ٹیکنالوجی کے ماہر مہیش مورتی کا کہنا ہے کہ ’سیاست داں عوام کی بڑی تعداد سے براہ راست جڑنے کی اہمیت کا اعتراف کر رہے ہیں۔ وہ ٹیلی ویژن یا اخبارات میں کمی نہیں کریں گے لیکن آنے والے دنوں میں وہ ڈیجیٹل ذرائع کا زیادہ استعمال کریں گے۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔