مقدمہ کے لیےاطالوی فوجیوں کی بھارت واپسی

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 22 مارچ 2013 ,‭ 08:40 GMT 13:40 PST

دو اطالوی فوجیوں پر بھارتی ماہی گیروں کے قتل کا الزام ہے

بھارت کا کہنا ہے کہ جن دو اطالوی فوجیوں پر ماہی گیروں کے قتل کا مقدمہ چل رہا ہے وہ عدالتی کارروائی کا سامنا کرنے کے لیے بھارت واپس پہنچ رہے ہیں۔

بھارتی وزیر خارجہ سلمان خورشید نے پارلیمان میں اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اطالوی فوجی روم سے بھارت کے لیے روانہ ہوچکے ہیں۔

اطالوی فوجیوں پر دو بھارتی ماہی گيروں کے قتل کا الزام ہے جن پر بھارتی عدالت میں مقدمہ چل رہا ہے لیکن حال ہی میں جب وہ اپنے ملک واپس گئے تھے تو اٹلی کی حکومت نے ان فوجیوں کو بھارت دوبارہ بھیجنے سے انکار کر دیا تھا۔

اطالاعات کے مطابق بھارتی حکومت نے اٹلی کو اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ بھارت میں مقدمے کے دوران دونوں فوجیوں کے حقوق کی پاسداری کی جائےگي اور انہیں گرفتار نہیں کیا جائےگا۔

بھارتی سپریم کورٹ نے دلی میں اطالوی سفیر کے ملک سے باہر جانے پر پابندی عائد کر دی تھی اور اٹلی کی حکومت کے سخت موقف کے سبب بھارت اور اٹلی میں سفارتی تعلقات کشیدہ ہوگئے تھے۔

بھارت کی سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ دلی میں اٹلی کے سفیر ڈینیئل منچنی کو قانونی استثنیٰ حاصل نہیں رہا اور عدالت کا ان پر سے اعتماد اٹھ گیا ہے۔

جن دو اطالوی فوجیوں پر بھارت میں مقدمہ چل رہا ہے انہیں ڈینیئل منچنی کے اس حلف نامے کی بنیاد پر واپس جانے دیا گيا تھا کہ وہ دوبارہ واپس آئیں گے۔

اس معاملے کی سماعت کے موقع پر اٹلی کے سفیر کے وکیل نے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ ڈینیئل منچنی کو سفارتی استثنیٰ حاصل ہے لیکن عدالت نے اس موقف کو مسترد کر دیا تھا۔

لیکن بھارت کے اس موقف کے بعد اٹلی نے بھارت پر الزام لگایا تھا کہ وہ اس کے سفیر کو ملک چھوڑنے سے روک کر بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

اٹلی کی وزارتِ خارجہ نے کہا تھا کہ یہ سفارتی تعلقات کے بارے میں ویانا کنونشن کی ’واضح خلاف ورزی‘ ہے۔ تاہم بھارت کا کہنا تھا کہ سفیر نے خود عدالت کے سامنے اپنے آپ کو پیش کرکے یہ ذمہ داری قبول کر لی تھی۔

خیال رہے کہ بھارت کے جنوبی شہر کوچی کے سمندری ساحل پر اطالوی تیل بردار ٹینکر کی نگرانی کرنے والے دو اطالوی فوجیوں نے بھارتی ماہی گیروں کو بحری قزاق سمجھ کر ان پر گولی چلا دی تھی۔

اس حادثے میں دو ماہی گیر ہلاک ہوئے تھے اور ان دونوں اطالویوں کوگزشتہ برس حراست میں لیا گیا تھا۔

سپریم کورٹ نے ان دونوں ملزمان کو فروری میں چار ہفتے کے لیے اپنے ملک جانے کی اجازت دی تھی جس کی وجہ اطالوی عام انتخابات کے دوران ووٹ ڈالنا بتائی گئی تھی۔

یہ دونوں اس سے قبل کرسمس کی چھٹیوں میں بھی اپنے ملک گئے تھے تاہم وقتِ مقررہ میں واپس آگئے تھے لیکن گذشتہ پیر کو اطالوی حکومت نے کہا تھا کہ یہ اب واپس بھارت نہیں جائیں گے اور اٹلی اس معاملے پر عالمی ثالثی کے لیے تیار ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔