بھارت میں قصہ گوئی کی روایت کو کیا ہوا؟

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 23 مارچ 2013 ,‭ 10:31 GMT 15:31 PST

بھارت میں کئی جگہ اب داستان گوئی کے فن کو زندہ کرنے کی کوششیں بھی ہورہی ہیں

بر صغیر میں داستانوں اور طرح طرح کی افسانوی کہانیوں کے سننے اور سنانے کی روایت بہت قدیم ہے جس کے ذریعے قدیم داستانیں نسل در نسل منتقل ہوتی رہی ہیں۔

لیکن اس جدید دور میں تیز رفتار گلوبلائزیشن اور میڈیا کی یلغار کے سبب قصہ گوئی کی قدیم اور خوبصورت روایت تیزی سے مٹ رہی ہے۔

ریاست تمل ناڈو میں تنجور کے پاس پنیا کٹّی نامی گاؤں میں ایک برگد کے گھنے پیڑ کے سائے میں گاؤں کی خواتین جمع ہوتی ہیں۔

روایتی لباس ساڑی میں ملبوس اپنے ہی گاؤں کی پرانی داستانیں سناتی ہیں اور درمیان میں گانا بجانا بھی ہوتا رہتا ہے۔

چنئی سے آئے داستانوں اور کہانیوں کے بعض ماہر بھی خواتین کے اس فن کو بغور دیکھ اور سن رہے ہیں۔ وہ نغموں کے ساتھ کہانی کہنے اور داستان سننے کی اس نئی طرز و ادا کا مطالعہ کر رہے ہیں کہ آخر یہ کتنا موثر طریقہ کار ہے۔ خواتین فنکار بھی ان کی اس توجہ سے بہت خوش ہیں۔

اکاون سالہ ایلن جیام کہتے ہیں’ یہ کہانیاں اب کوئي نہیں سناتا، اور بہت کم افراد کو اس میں دلچسپی بھی ہے۔ حقیقت تو یہ ہمیں یاد ہی نہیں کہ اس طرح ہم نے داستان کب سنی تھی کیونکہ زمانہ ہوا جب کہانیاں سنی جاتی تھیں۔‘

چنئی میں فوک داستانوں کے ماہر ایرک ملر کہتے ہیں کہ’ اس طرح کی کہانیاں دیہاتیوں کو واقعات بتانے، تجربات کا تبادلہ کرنے یا بچوں کو تعلیم دینے کے لیے سنائی جاتی تھیں۔‘

"وہ نغمے اور کہانیاں مجھے ابھی تک یاد ہیں۔ میں اب بھی اپنے دوستوں میں وقت گزارنے کے لیے ان کا ذکر کرتی ہوں۔ لیکن میرے بچوں کو بلکل پسند نہیں ہیں۔ وہ ٹی وی دیکھنا پسند کرتے ہیں اور انہیں داستانوں میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔"

ابھی کچھ برس پہلے تک بچوں کو رات کو سوتے وقت بھی کہانیاں سنانے کا رواج تھا جو بہت تیزی سے مٹ رہا ہے۔

پینتیس برس کی بھانومتی کہتی ہیں کہ انہیں بچپن میں سنائی گئی بہت سی کہانیاں یاد ہیں۔’وہ نغمے اور کہانیاں مجھے ابھی تک یاد ہیں۔ میں اب بھی اپنے دوستوں میں وقت گزارنے کے لیے ان کا ذکر کرتی ہوں۔ لیکن میرے بچوں کو بلکل پسند نہیں ہیں۔ وہ ٹی وی دیکھنا پسند کرتے ہیں اور انہیں داستانوں میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔‘

تمل ناڈو میں فوک آرٹ اور کلچر کے ماہر آرو راما ناتھن کا کہنا ہے کہ ٹی وی کی رسائی دور دراز دیہی علاقوں تک ہوگئی ہے اور ٹی وی چینلز روایتی فن کو متبادل بنتے جارہے ہیں۔

’گاؤں میں بھی اب بچے ٹی وی پر کارٹون دیکھتے ہیں تو بجائے اپنی تہذیب و کلچر سیکھنے کے وہ دوسری دنیا کی کہانیوں میں کھوئے رہتے ہیں۔‘

شہروں کی طرح اب گاؤں میں بھی، انٹرینٹ، موبائل فون اور ٹی وی تفریح کا ذریعہ ہیں اور اس ماحول میں داستان یا کہانی سننے سنانے کی روایت کا احیاء ایک بڑا چیلنج ہے۔

لیکن ایرک ملیئر کہتے ہیں کہ اس دور میں کہانی کہنے اور سننے کی زیادہ ضرورت ہے۔ ان کے مطابق اس وقت بچوں کی ایک بڑی تعداد لاپرواہی شکار ہے جسے کہانیاں سنا کر بہلایا جا سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق جدید دور میں بچے دادا دادی کے پاس بھی کم رہتے ہیں اس لیے بھی وہ پرانی روایت اور کلچر سے دور ہوتے جارہے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔