اطالوی فوجی کیس، خصوصی عدالت کا قیام

آخری وقت اشاعت:  پير 25 مارچ 2013 ,‭ 10:22 GMT 15:22 PST

دو اطالوی فوجیوں پر بھارتی ماہی گیروں کے قتل کا الزام ہے

بھارت میں جن دو اطالوی فوجیوں کو قتل کے الزامات کا سامنا ہے ان کے لیے خصوصی عدالت قائم کی گئی ہے۔

عدالت میں روزانہ کی بنیاد پر اس کیس کی سماعت ہو گی۔

دلی ہائي کورٹ نے اس کے لیے پٹیالہ ہاؤس کورٹ کے چيف میٹرو پولیٹین مجسٹریٹ امت بنسل کو جج مقرر کیا ہے۔

اطالوی فوجیوں پر دو بھارتی ماہی گيروں کے قتل کا الزام ہے جن پر بھارتی عدالت میں مقدمہ چل رہا ہے لیکن حال ہی میں جب وہ اپنے ملک واپس گئے تھے تو اٹلی کی حکومت نے ان فوجیوں کو بھارت دوبارہ بھیجنے سے انکار کر دیا تھا۔

اٹلی کے اس فیصلے سے دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات کشیدہ ہوگے تھے۔ لیکن بھارت کی جانب سے اٹلی کو بعض یقین دہانیوں کے بعد دونوں فوجی جمعہ کو دوبارہ واپس آئے تھے۔

خصوصی عدالت کے قیام کا حکم سپریم کورٹ نے اٹھارہ جنوری کو دیا تھا تاکہ اس مقدمے کو ترجیحی بنیاد پر ختم کیا جا سکے۔ لیکن عدالت قائم نہیں ہوئي تھی۔

لیکن اطالوی فوجیوں کی واپسی کے بعد مرکزی حکومت نے دلی ہائی کورٹ کو فوری طور پر عدالت قائم کرنے کا حکم دیا۔ اس عدالت میں روزانہ کی بنیاد پر مقدمے کی سماعت ہو گی۔

جن دو اطالوی فوجیوں پر بھارت میں مقدمہ چل رہا ہے انہیں دلی میں اطالوی سفیر ڈینیئل منچنی کے اس حلف نامے کی بنیاد پر واپس جانے دیا گيا تھا کہ وہ دوبارہ واپس آئیں گے۔

لیکن جب اٹلی کی حکومت نے اپنے فوجیوں کو بھارت واپس نا بھیجنے کا فیصلہ کیا تو بھارتی سپریم کورٹ نے اپنے ایک سخت فیصلے میں سفیر پر ملک نا چھوڑنے کی پابندی عائد کر دی تھی۔

اس معاملے کی سماعت کے موقع پر اٹلی کے سفیر کے وکیل نے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ ڈینیئل منچنی کو سفارتی استثنیٰ حاصل ہے لیکن عدالت نے اس موقف کو مسترد کر دیا تھا۔

لیکن بھارت کے اس موقف کے بعد اٹلی نے بھارت پر الزام لگایا تھا کہ وہ اس کے سفیر کو ملک چھوڑنے سے روک کر بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

خیال رہے کہ بھارت کے جنوبی شہر کوچی کے سمندری ساحل پر اطالوی تیل بردار ٹینکر کی نگرانی کرنے والے دو اطالوی فوجیوں نے بھارتی ماہی گیروں کو بحری قزاق سمجھ کر ان پر گولی چلا دی تھی۔

اس حادثے میں دو ماہی گیر ہلاک ہوئے تھے اور ان دونوں فوجیوں کوگزشتہ برس حراست میں لیا گیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔