نریندر مودی: امریکی وفد کی آمد پر تنازع

Image caption مسلم مخالف فسادات کے لیے مودی پر نکتہ چینی ہوتی رہی ہے

بھارت میں کانگریس پارٹی نے الزام عائد کیا ہے کہ گجرات کے وزیراعلیٰ نریندر مودی سے ملاقات کے لیےآنے والے امریکی وفد کو اس مقصد کے لیے رشوت دی گئی تھی۔

پارٹی نے نریندر مودی سے استعفیٰ دینے اور اور عوام سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔

دو روز قبل ہی امریکی کانگریس کے تین ارکان پر مشتمل ایک وفد نے نریندر مودی سے ملاقات کے بعد ان کی حکومت کی تعریف کی تھی اور انہیں امریکہ کا دورہ کرنے کی دعوت دی تھی۔

ریاست گجرات میں 2002 کے مسلم کش فسادات کے ضمن میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے سبب امریکہ نے اب تک نریندر مودی کو ویزا نہیں دیا ہے۔

کانگریس پارٹی کا کہنا ہے کہ اس طرح کے وفد کا اہتمام دراصل مارکیٹنگ کا ہتھکنڈا ہے جس کا انتظام امریکہ میں بی جے پی کے لیے کام کرنے والی ایک عوامی رابطے کی کمپنی نے کیا تھا۔

گجرات میں کانگریس پارٹی کے سینیئر رہنما ارجن موڈھ واڑیا نے ایک بیان میں کہا، ’یہ ریاست کے لیے شرم کی بات ہے۔ 16 ہزار ڈالر کی ادائیگي کے بعد لوگوں کو یہاں بھیجا گيا اور اسے سرکاری وفد کا درجہ دے دیا گيا۔ یہ جعل سازی ہے، مودی کو استعفیٰ دے دینا چاہیے اور عوام سے معافی مانگنی چاہیے۔‘

اس کے بارے میں جنوبی ایشیا کی ایک ویب سائٹ ’ہائی انڈیا‘ نے لکھا ہے کہ امریکی کانگریس کے اراکین کے وفد کا انتظام بی جے پی کی حلیف تنظیم نے کیا اور اس کی دعوت ایک تھنک ٹینک کے ذریعے دی گئی تھی۔

لیکن یہ بات واضح نہیں کی گئی کہ آیا پیسہ براہِ راست ایوان نمائندگان کو دیا گیا یا پھر کسی اور طریقے سے استعمال کیا گیا۔

لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی نے کانگریس کے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفد کے لیے رقم مہیا کرنا بی جے پی کا کلچر نہیں ہے۔

پارٹی کے ایک رہنما سندھاشو متّل نے کہا، ’بیرونی ممالک کے لوگ نریندور مودی سے ملاقات کے لیے ان کے اچھے کام کی وجہ سے آتے ہیں۔‘

امریکی ایوان نمائندگان کے تین رکن اور کچھ امریکی تاجروں پر مشتمل وفد نے جمعرات کو نریندر مودی سے ملاقات کی تھی اور انھیں امریکہ کا دورہ کرنے کی دعوت دی تھی۔

ریاست میں مسلم کش فسادات کے بعد 2005 میں امریکہ نے نریندر مودی کو ویزا دینے سے انکار کردیا تھا۔ تب سے وہ امریکہ نہیں جا سکے ہیں۔

امریکی وفد کا کہنا تھا کہ نریندر مودی کو ویزا دینے سے متعلق وہ امریکی محکمۂ خارجہ سے بات چيت کریں گے تاکہ انہیں ویزا مل سکے۔

لیکن رقم کی ادائیگی کا تنازع سامنے آنے کے بعد امریکی وفد کی قیادت کرنے والے الی نوئے سے کانگریس کےرکن آرون شوک نے ایک بیان میں اس کی تردید کی۔

ان کا کہنا تھا، ’میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارے وفد کو حکومت کے متعلقہ محکمے اور خاص طور پر کانگریس کی جانب سے منظوری ملی تھی، تو اگر کوئی ہمارے وفد پر سوال اٹھاتا ہے تو اس سے ہم یہی کہیں گے کہ کانگریس کے تین ارکان ملک سے یوں ہی نہیں آتے ہیں۔‘

اس سے قبل جب امریکی وفد نے نریندر مودی سے ملاقات کے بعد ان کی تعریف کی تھی تو مسٹر مودی نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا تھا، ’میں امریکی گانگریس کے ارکان اور تاجروں کی جانب سے گجرات کی ترقی کی تعریف کرنے پر ان کا شکرگزار ہوں۔‘

اسی بارے میں