بی جے پی کے پارلیمانی بورڈ میں مودی کی واپسی

Image caption نریندر مودی اب قومی سیاست میں بھی اہم کردا ادا کر سکیں گے

بھارت کی اہم اپوزیشن جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے گجرات کے وزیراعلیٰ نریندر مودی کو چھ برس بعد دوبارہ مرکزی پارلیمانی بورڈ میں شامل کرلیا ہے۔

آئندہ عام انتخابات سے قبل نریندر مودی کو اس عہدے پر لانے کا مطلب یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں وہ قومی سیاست میں اہم کردار ادا کریں گے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی میں کئي حلقوں کی جانب سے یہ مطالبہ ہوتا رہا ہے کہ آئندہ عام انتخابات میں مودی کو ہی وزارت عظمیٰ کا امیدوار بنایا جائے۔

پارٹی کے صدر راج ناتھ سنگھ نے عہدۂ صدارت سنبھالنے کے بعد پہلی بار اپنی ٹیم تشکیل دی ہے اور اس میں نریندر مودی ہی پارٹی کے ایسے وزیرِاعلیٰ ہیں جنہیں پارلیمانی بورڈ میں جگہ دی گئی ہے۔

اس کے علاوہ دوسری ریاستوں کے پارٹی کے وزرائے اعلیٰ کو اس طرح کا کوئی عہدہ نہیں دیا گيا ہے۔

چھ برس قبل جب راج ناتھ سنگھ بی جے پی کے صدر تھے تو انہوں نے نریندر مودی کو پارلیمانی بورڈ سے ہٹا دیا تھا اور اب انھیں دوبارہ لے لیا ہے۔

انتخابی امور سے متعلق پارٹی کی سینٹرل الیکشن کمیٹی میں بھی نریندر مودی کو شامل کر لیا گيا ہے جس کے انچارج راج ناتھ سنگھ ہیں۔

نریندر مودی نے حال ہی میں مسلسل تیسری بار بطور وزیراعلیٰ ریاست گجرات کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی اور تبھی سے یہ قیاس آرائیاں ہورہی تھیں کہ اب وہ مرکزی سیاست میں واپس ہوسکتے ہیں۔

اب پارٹی میں کل 12 نائب صدور، دس جنرل سیکرٹری، 15 سیکرٹری اور سات ترجمان ہیں۔ اس کے علاوہ 12 سینٹرل پارلیمانی بورڈ کے ارکان، 19 ارکان سینٹرل الیکشن کمیٹی میں اور پانچ افراد سینٹرل ڈسپلنری کمیٹی کے ہیں۔

ٹیم میں شامل ہونے والے نئے افراد میں ریاست مدھیہ پردیش کی سابق وزیراعلیٰ اوما بھارتی ہیں جنہیں نائب صدر مقرر کیا گيا ہے جب کہ نریندر مودی کے قریبی ساتھی امت شاہ کو جنرل سیکریٹری بنایا گيا ہے۔

امت شاہ پر سہراب الدین نامی ایک شخص کی فرضي پولیس مقابلے میں ہلاکت کا مقدمہ چل رہا ہے اور انھیں اس ٹیم میں لیے جانے پر کئی حلقوں کی جانب سے نکتہ چینی کی گئی ہے۔

تاہم پارٹی کا کہنا ہے کہ انھیں محض پارٹی کا عہدہ دیا گيا ہے اور یہ کوئی سرکاری عہدہ نہیں ہے۔

پارٹی نے سنجے گاندھی کے بیٹے اور اندرا گاندھی کے پوتے ورون گاندھی کو جنرل سیکرٹری کا عہدہ دیا ہے جبکہ ٹی وی اداکارہ سمرتی ایرانی کو نائب صدر بنایا گيا ہے۔

اسی بارے میں