نوارٹس کی دوا پیٹنٹ کرنے کی درخواست مسترد

Image caption بھارتی مظاہرین نوارٹس کی پیٹنٹ پالیسیوں کے خلاف مظاہرہ کر رہے ہیں

بھارتی سپریم کورٹ نے بین الاقوامی دواساز کمپنی نوارٹس کی کینسر کے علاج کے لیے قدرے نئی دوا کے پیٹنٹ کی درخواست مسترد کر دی ہے۔

سوئٹزر لینڈ کی دوا ساز کمپنی نوارٹس نے کینسر کی معروف دوا گلائي ویک کی ایک نئی قسم تیار کی تھی جس کو وہ بھارت میں پیٹنٹ کرنا چاہتی تھی۔

لیکن بھارتی حکام نے اس کے مطالبے کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا تھا کہ نئی دوا پرانی دوا سے معمولی سی مختلف ہے اور دونوں میں کوئی خاص فرق نہیں ہے، اس لیے اسے نیا پیٹنٹ نہیں جاری کیا جا سکتا۔

بھارتی سپریم کورٹ نے حکومت کے موقف کو صحیح قرار دیا ہے اور کمپنی کے دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔

بھارت میں صحت عامہ کے لیے مہم چلانے والوں نے سپریم کورٹ کی جانب سے نوارٹس کمپنی کی اپیل مسترد کرنے کا خیر مقدم کیا ہے۔

صحت سے متعلق ایک بین الاقوامی ادارے ’میڈیسن سینز فرنٹیئرز‘ نے ایک بیان میں کہا ہے، ’یہ فیصلہ دنیا بھر کے ترقی پذیر ممالک میں بہت سے افراد کی جانیں بچانے کا کام کرے گا۔‘

اس فیصلے کا مطلب یہ ہے کہ بھارتی کمپنیاں گلائی ویک دوا کا سستا ورژن تیار کرتی رہیں گی۔ لیکن سوئس کمپنی نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ ’مستقبل میں دواسازی میں جدت کے عمل کے لیے حوصلہ شکن ثابت ہوگا۔‘

بھارت میں کمپنی کے نائب چیئرمین اور مینیجنگ ڈائریکٹر رنجت شاہانی نے کہا، ’یہ فیصلہ پیٹنٹ کے لیے نقصان دہ ہے جو بیماریوں کے موثر علاج کے متبادل کے بغیر طب کی پیش رفت میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔‘

بھارت میں اس بات پر تشویش کی جا رہی ہے کہ اگر اس دوا کو پیٹنٹ کر دیا گيا تو پھر غریب ممالک میں اس قسم کی دوسری سستی دوائیں بھی دستیاب نہیں ہوں گي۔

لیکن بعض مغربی ممالک کی کمپنیوں نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ نوارٹس کے خلاف فیصلے سے تحقیق کے شعبے میں سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہوگی۔

گلائی ویک خون کے سرطان اور بعض دیگر خطرناک قسم کے کینسر کے علاج کے لیے استعمال کی جاتی ہے جس پر ماہانہ تقریبا ڈھائی ہزار ڈالر کی لاگت آتی ہے۔

لیکن بھارت میں بھارتی کمپنیوں کا بنایا ہوا اسی دوا کا جنیرک ورژن صرف پونے دوسو ڈالر یعنی تقریباً دس ہزار روپے میں دستیاب ہے۔

کینسر کے مریضوں کی امداد کرنے والی ایسوسی ایشن کی طرف سے آنند گرور اس مقدمے کے وکیل تھے۔ انھوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر خوشی ظاہر کی۔

ان کا کہنا تھا ’یہ فیصلہ غریبوں کو سستی قیمت پر دوائیں فراہم کرنے میں دور رس اثرات کا حامل ہے۔ میں اس پر بہت خوش ہوں۔‘

نوارٹس نے دوا کے نئے ورژن کے پیٹنٹ کے لیے 2006 میں یہ کہہ کر درخواست دی تھی کہ اس کی دوا چونکہ گھلنے میں زیادہ آسان ہے اس لیے از سر نو پیٹنٹ کرنے کی مستحق ہے۔

لیکن بھارتی قوانین کے مطابق کسی دوا میں تھوڑی بہت تبدیلیوں کے بعد اگر اسے نئے سرے سے تیار کیا جائے تو اسے پیٹنٹ نہیں کیا جا سکتا۔

نوارٹس نے تین برس پہلے دوبارہ درخواست دی تھی لیکن اسے بھی مسترد کر دیا گیا تھا۔ پیر کو سپریم کورٹ نے بھی کمپنی کی اپیل مسترد کر دی۔

عدالت کا کہنا تھا کہ دواؤں میں ذرا سی بہتری یا تبدیلی ’ایجاد یا نئی دریافت کے زمرے میں نہیں آتی۔‘

دواؤں کے پیٹنٹ سے کمپنی کو دوا فروخت کرنے کا بیس برس تک کا خصوصی اختیار ملتا ہے اور اس کے بعد ہی دوسری کمپنیوں کو اس دوا کی سستی کاپی تیار کرنے کا اختیار دیا جاتا ہے۔

ایک تخمینے کے مطابق دو دوائیں جو سالانہ ڈیڑھ ارب ڈالر تک فروخت ہوتی ہیں ان کا 2015 تک پیٹنٹ ختم کر دیا جائےگا۔

اصلی دواؤں کی کاپی یا ان کا سستا ورژن تیار کرنے میں بھارت دنیا میں سب سے آگے ہے اور 2015 میں جب ایسی دواؤں کا پیٹنٹ ختم ہوگا تو بھارتی کمپنیاں ان میں سے بیشتر دوائیں تیار کر سکیں گی۔

لیکن بھارت میں اس بات پر تشویش پائی جاتی ہے کہ اگر کسی دوا میں ذرا سی تبدیلی کر کے اسے از سرِ نو تیار کیا جائے اور اس کا بھی پیٹنٹ کر دیا جائے تو پھر وہ دوا سستے داموں دستیاب نہیں ہوسکے گی۔

اس سے ملک کے سب سے زیادہ غریب افراد متاثر ہوں گے اور بھارت میں غریبوں کی ایک بڑی تعداد بستی ہے۔

بھارت کی کئی دواساز کمپنیوں نے بھی اس فیصلے پر خوشی ظاہر کی ہے اور کہا کہ یہ فیصلہ مستقبل میں ایک مثال ثابت ہوگا اور اس کی روشنی میں بہت سی بیرونی کمپنیاں اپنی ادویات کے لیے نیا پیٹنٹ نہیں حاصل کر پائیں گی۔

اس فیصلے کے بعد ممبئی سٹاک ایکسچینج میں نوارٹس کے شیئر پانچ فیصد تک گر گئے جب کہ دوا بنانے والی بھارتی کمپنی سپلا اور نیٹکو کے شیئر میں اضافہ دیکھا گيا ہے۔

اسی بارے میں