’سیکس ورکرز کو جعلی نوٹ دینا اب ممکن نہیں‘

بھارت میں سیکس ورکرز
Image caption سوناگاچھی میں سیکس ورکرز کے درمیان بیداری کی مہم عام ہیں

کولکاتہ کے ریڈلائٹ علاقے سوناگاچھی کی ’سیکس ورکرز‘ کو ان کے اکثر گاہک جعلی نوٹ دے کر چلے جاتے ہیں۔ یہ سیکس ورکرز پولیس کے ڈر سے شکایت نہیں کرتی تھی لیکن اب ان کی مشکل آسان ہو رہی ہے۔

ایشیا کے سب سے بڑے ریڈلائٹ علاقوں میں سے ایک سوناگاچھی میں سیکس ورکرز کے حقوق کے لیے کام کرنے والی شتابدی جینا کے دفتر میں بڑی تعداد میں خواتین موجود ہیں اور شتابدی دیوی ان کے ساتھ مصروف ہیں۔

عام طور پر یہ خواتین ایچ آئی وی ایڈز کے خطرے اور اس سے نمٹنے کے طریقوں کو جاننے کے لیے آتی ہیں۔ تاہم اس دن شتابدی کے دفتر میں یہ جاننے کے لیے جمع ہوئی تھیں کہ آخر جعلی نوٹوں کی شناخت کیسے کی جائے۔

گزشتہ کچھ مہینوں میں ان لڑکیوں میں سے بعض کو پانچ سو اور ایک ہزار روپئے کے نوٹ ملے تھے۔

اس کمرے میں سیما فوکلے نامی ایک سیکس ورکر بھی موجود تھی۔ انہوں نے غصے سے پانچ سو کا نوٹ زمین پر پھیکنتے ہوئے کہا ’یہ نوٹ اسی شخص کی طرح نقلی ہے جس نے مجھے یہ نوٹ دیا ہے۔‘

ان کے آس پاس بیٹھی خواتین ان سے اتفاق کرتے ہوئی بتاتی ہیں کہ اس پریشانی میں دن پر دن اضافہ ہو رہا ہے۔

یہاں کئی ایسی خواتین ہیں جن کی روزانہ آمدن سو روپے سے بھی کم ہے اور جعلی نوٹوں کے مسئلے سے ان کی پریشانی میں اضافہ ہوا ہے۔

Image caption بھارت میں پانچ سو کے جعلی نوٹ اکثر پائے جاتے ہیں

سوناگاچھی جیسے علاقے میں جعلی نوٹوں کو چلانا سب سے آسان کام ہے کیونکہ یہاں کی خواتین ڈر کی وجہ سے پولیس کے پاس نہیں جاتی ہیں۔

شتابدی جینا اس بارے میں کہتی ہیں ’سبھی لڑکیاں پولیس کے نام سے کانپتی ہیں۔ انہیں ڈر ہے کہ اگر وہ پولیس کے پاس جائیں گی تو انہیں گرفتار کرلیا جائے گا۔ ویسے بھی سیکس ورکرز کی شکایت پر پولیس رپورٹ تو درج کرے گی نہیں۔‘

شتابدی جینا سے متفق سیکس ورکر شیفالی کا کہنا ہے ’اگر ہمارے گاہکوں کو پتہ چل گیا کہ ہم نے پولیس نے ان کی شکایت کی ہے تو ہمارے پاس آنا بند کر دیں گے۔ اس لیے خاموشی میں ہی بھلائی ہے۔‘

شتابدی جس تنظیم کی ساتھ کام کرتی ہیں اس نے جعلی نوٹوں کی پہچان کرنی والی مشین اس علاقے میں لگا دی ہے اور اس مشین سے سوناگاچھی کی سیکس ورکرز کو فائدہ ہوا ہے۔

اس بارے میں شتابدی جینا کا کہنا ہے کہ مشین لگنے کے بعد جعلی نوٹوں کی تعداد میں بیس فی صد کمی آئی ہے۔

واضح رہے کہ بھارت میں جسم فروشی غیر قانونی ہے لیکن ایک اندازے کے مطابق بھارت میں تیس لاکھ سے زائد خواتین جسم فروشی کا کام کرتی ہیں۔

اسی بارے میں