آسام: ڈرون طیارے سے گینڈوں کا تحفظ

Image caption ڈرون شکاریوں کو باز رکھنے کے کام آسکیں گے کیونکہ اب ان کی نگرانی زمین کے ساتھ ساتھ فضائل سے بھی ہورہی ہوگی

بھارت کی ریاست آسام کے معروف ’قاضی رنگا نیشنل پارک‘ میں گينڈوں کو شکاریوں سے بچانے کے لیے فضاء میں ڈرون طیارہ فضا میں محو پرواز رہتا ہے۔

ایک سینگ والے گینڈے کا شمار کم یاب جانوروں میں ہوتا ہے جو اس پارک میں سب سے زیادہ پائے جاتے ہیں لیکن حالیہ دنوں میں ان کے شکار میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

قاضی رنگا پارک کے سربراہ این کے واسو کا کہنا ہے کہ پیر کو ڈرون کی پہلی پرواز ’ وائلڈ لائف کے تحفظ کے لیے سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ بغیر پائلٹ والا طیارہ ’ آسمان میں پندرہ منٹ تک رہا اور محفوظ طریقے سے واپس زمین پر اتار لیا گیا۔ ہمیں امید ہے کہ پارک کی موثر نگرانی میں یہ تکنیک بڑا اہم کردار ادا کرے گي۔‘

ریاست آسام کے وزیر جنگلات رقیب الحسن کا کہنا ہے کہ بھارت میں وائلڈ کے تحفظ کے لیے پہلی بار ڈرون کا استعمال کیا گيا ہے۔

ان کا کہنا تھا ’ڈرون شکاریوں کو باز رکھنے کے کام آ سکیں گے کیونکہ اب ان کی نگرانی زمین کے ساتھ ساتھ فضائل سے بھی ہو رہی ہوگی۔‘

ان کہنا ہے کہ اس تکنیک کے ذریعے تقریباً پانچ سو مربع کلومیٹر میں پھیلے جنگل کے دور دراز اور دشوار گزار علاقوں کی بھی نگرانی کی جا سکے گی۔

حکام کے مطابق جنگل کی نگرانی کے لیے تیار کیےگئے ڈرون طیارے متعین کردہ روٹ پر تقریباً پینسٹھ فٹ کی اونچائي پر نوے منٹ تک پرواز کر سکتے ہیں۔

اسی بارے میں