سکھ قتلِ عام:’ کیس دوبارہ کھولنے کا حکم‘

Image caption کانگریس کے رہنما جگدیش ٹائٹلر پر فسادات کو ہوا دینے کا الزام ہے

بھارت میں ایک عدالت نے سنہ انیس سو چوراسی میں سکھ مخالف فسادات میں کانگریس کے رہنما کے کردار کی تفتیش دوبارہ کرنے کا حکم دیا ہے۔

کانگریس کے رہنما جگدیش ٹائٹلر کو بھارت کا سینٹرل تحقیقاتی ادارہ سی بی آئی اس معاملے میں کلیئر کر چکا ہے۔

سنہ انیس سو چوراسی میں اس وقت کی وزیراعظم اندرا گاندھی نے سکھ انتہا پسندوں کو نکالنے کے لیے امرتسر کے گولڈن ٹیمپل میں فوج کے داخلے کی اجازت دی تھی جس کے دو ماہ بعد دارالحکومت دہلی میں انہیں ان کے سکھ محافظوں نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

ان کی ہلاکت کے بعد پورے ملک میں سکھ مخالف فسادات بھڑک اٹھے تھے جس میں تین ہزار سکھ مارے گئے تھے۔

جگدیش ٹائٹلر نے کسی جرم میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔

لکھویندر کور کے شوہر ان ہنگاموں میں ہلاک ہو گئے تھے اور اب انہوں نے سی بی آئی کی سال دو ہزار نو میں مکمل ہونے کی تحقیقات کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اس رپورٹ میں دو اہم گواہوں کے بیانات ریکارڈ نہیں کیے گئے تھے۔

ان ہنگاموں میں ہلاک ہوالے ایک شخص ہرویندر سنگھ کے وکیل نے صحافیوں کو بتایا کہ’بدھ کو عدالت نے سی بی آئی کو حکم دیا ہے کہ وہ ان گواہوں کے بیانات ریکارڈ کریں جنہوں نے مبینہ طور پر جگدیش ٹائٹلر کو ایک ہجوم کی قیادت کرتے ہوئے دیکھا تھا‘۔

نئی دہلی کی ایک عدالت نے سی بی آئی سے مزید کہا ہے کہ’اس پہلو کی تحقیقات بھی کرے کہ آیا جگدیش ٹائٹلر نے ہجوم کو اکسایا تھا جس نے ایک گوردوارہ میں تین سکھوں کو ہلاک کر دیا تھا‘۔

حکمراں جماعت کانگریس کی ترجمان کا کہنا ہے کہ جماعت عدالت کے فیصلے کا انتظار کرے گی اور اس کے بعد ہی جگدیش ٹائٹلر کے بارے میں کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔

اسی بارے میں