خالصتان تحریک کے بھلّر کی رحم کی اپیل مسترد

Image caption دھماکے میں منندر سنگھ بٹّا کو نشانہ بنایا گيا تھا جو بچ گئے تھے

بھارتی سپریم کورٹ نے 1993 کے دہلی بم دھماکے کے مجرم دیویندر پال سنگھ بھلّر کی رحم کی درخواست یہ کہہ کر مسترد کر دی ہے کہ ان کی رحم کی اپیل پر تاخیر سے فیصلہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ موت کی سزا عمر قید میں بدل دی جائے۔

دیویندر پال سنگھ بھلّر کا تعلق بھارتی ریاست پنجاب میں شدت پسندی کے دوران علیحدگي پسند عسکری تنظیم بّبر خالصہ سے تھا۔

دیویندر پال سنگھ بھلّر کو دس ستمبر 1993 کو دہلی میں ہونے والے بم دھماکے کے لیے عدالت نے موت کی سزا سنائی تھی۔

اس بم حملے میں اس وقت کے نوجوان کانگریسی رہنما منندرجيت سنگھ بٹّا کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس میں بٹّا شدید طور پر زخمی ہوئے لیکن وہ بچ گئے تھےتاہم دیگر نو افراد ہلاک اور 25 زخمی ہوگئے تھے۔

بھلّر کو اس جرم کے لیے موت کی سزا سنائی گئی تھی اور تفتیش میں پایا گيا کہ وہ پنجاب کو بھارت سے ایک علحیدہ ریاست خالصتان کے لیے سرگرم شدت پسند تنظیم ’خالصتان لبریشن فورس‘ کے حامی تھے۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ان کی رحم کی اپیل کے فیصلے پر ہونے والی تاخیر اس بات کی بنیاد نہیں بنائی جا سکتی کہ ان کی سزا عمر قید میں تبدیل کر دی جائے۔

سپریم کورٹ نے بھی 2002 میں بھلّر کو موت کی سزا کو بر قرار رکھا تھا جس کے خلاف انہوں نے صدر سے رحم کی اپیل کی تھی لیکن صدر پرنب مکھرجی نے بھی ان کی رحم کی اپیل مسترد کر دی ہے۔

سپریم کورٹ میں یہ عرضی دائر کی گئی تھی کہ چونکہ ان کی رحم کی اپیل میں فیصلہ آنے میں 11 برس کا وقت لگا، اس لیے ان کی موت کی سزا کو عمر قید میں بدل دیا جائے۔ لیکن سپریم کورٹ نے اسے آج مسترد کر دیا۔

سپریم کورٹ کے فیصلے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے مندرجيت سنگھ بٹّا نے کہا کہ انہیں یہ امید نہیں تھی کہ عدالت پھانسی کی سزا کو برقرار رکھے گی۔

فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’مجھے بالکل امید نہیں تھی کہ سپریم کورٹ سے یہ فیصلہ آئےگا۔ جس طریقے سے شیلا دکشت نے بھلّر کو ذہنی طور پر غیرمتوازن قرار دیا اور کھل کر اس کی مدد کی۔ مجھے امید نہیں تھی کہ بھلّر کو پھانسی ملے گی۔‘

ادھر کانگریس پارٹی نے کہا ہے کہ پارٹی عدالت کے اس فیصلے کا احترام کرے گی۔

دلی میں بم دھماکے کے بعد بھلّر جرمنی چلے گئے تھے اور وہاں کی حکومت سے سیاسی پناہ طلب کی تھی۔ لیکن جرمنی کی حکومت نے ان کی اپیل مسترد کر کے انھیں بھارت کے حوالے کر دیا تھا۔

بھلّر نے موت کی سزا کو عمر قید میں بدلوانے کی کئی کوششیں کیں لیکن انھیں کامیابی نہیں ملی۔ 2002 میں سپریم کورٹ نے موت کی سزا کے خلاف دائر کی گئی ان کی درخواست مسترد کر دی تھی۔

سال 2003 میں انہوں نے صدر کے سامنے معافی کی درخواست دی تھی جسے صدر جمہوریہ پرتیبھا پاٹيل نے 2012 میں خارج کر دیا تھا۔

فیصلے سے ناراض بھلّر کی بیوی نونيت کور نے ٹیلی ویژن چینل این ڈی ٹی وی کو دیے گئے ایک اٹرويو میں کہا کہ ان کے شوہر کو اس معاملے میں پھنسايا گیا تھا اور وہ چاہتی ہیں کہ عدالت ان کے شوہر کے ساتھ ساتھ انھیں بھی پھانسی پر چڑھا دے۔

کہا جا رہا ہے کہ اس فیصلے کا اثر ان قیدیوں پر بھی پڑے گا جنھیں پھانسی کی سزائیں سنائي گئی ہیں اور انھوں نے معافی کی درخواستیں دائر کر رکھی ہیں۔

اسی بارے میں