بنگلور دھماکا: ’شواہد جمع کیے جا رہے ہیں‘

بنگلور دھماکہ
Image caption پولیس کو شک ہے کہ دھماکا خیز مواد موٹر سائیکل پر رکھا گیا تھا

بھارت کی جنوبی ریاست کرناٹک کے شہر بنگلور میں ہونے والے دھماکے کی تحقیقات کرنے والے وفاقی تفتیش کار جائے وقوعہ سے ثبوت جمع کر رہے ہیں۔

بدھ کی صبح بنگلور میں قوم پرست ہندو جماعت بی جے پی کے دفتر کے قریب ہونے والے ایک دھماکے میں آٹھ پولیس اہلکاروں سمیت کم از کم سولہ افراد زخمی ہو گئے تھے۔

بھارت کی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی این آئی اے اور نیشنل سکیورٹی گارڈ کی تفتیشی ٹیم فارنسک شواہد حاصل کرنے کے لیے جائے وقوعہ پر پہنچ گئی ہے۔

ریاست کے وزیراعلیٰ جگدیش شیٹر کے مطابق’دہشت گردی کے پہلو‘ کے حوالے سے تفتیش کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ ’دھماکے میں ملوث افراد کو اس بات کی اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ ریاست میں انتخابات کو متاثر کریں‘۔

ابھی تک کسی گروپ نے دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

بنگلور میں نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بنگلور بھارت میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا گڑھ سمجھا جاتا ہے اور یہاں پر آئی بی ایم، مائیکروسافٹ اور ایچ پی جیسی غیر ملکی کمپنیوں سمیت مقامی کمپنیوں کے سینکڑوں دفاتر ہیں اور یہ شہر دہشت گرد کارروائیوں کے لیے ایک آسان ہدف سمجھا جاتا ہے۔

بدھ کو خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق بنگلور کے پولیس کمشنر راگھویندر اورادكر نے بتایا تھا کہ دھماکا صبح تقریباً ساڑھے دس بجے ملّیشورم علاقے میں ہوا۔ انہوں نے کہا: ’ابھی میں اتنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ یہ دھماکا تھا۔ آغاز میں سمجھا جا رہا تھا کہ دھماکہ سلنڈر کی وجہ سے ہوا لیکن اب ہمارا خیال ہے کہ یہ موٹر سائیکل دھماکا تھا۔‘

یہ دھماکا ریاست میں برسراقتدار سخت گیر ہندو جماعت بی جے پی کے دفتر کے پاس ہوا۔ بی جے پی کے ایک ترجمان نے بتایا کہ جب وہ اپنی پارٹی کے دفتر میں کام میں مشغول تھے تو انہوں نے ’دھماکے‘ کی آواز سنی۔

کرناٹک میں پانچ مئی کو اسمبلی انتخابات ہونے ہیں اور بدھ کو کاغذات نامزدگی داخل کرنے کا آخری دن تھا۔ یہی وجہ تھی کہ بی جے پی کے دفتر میں خاصی بھیڑ تھی۔

اس سے قبل فروری میں بھارت کے جنوبی شہر حیدرآباد میں ایک بم دھماکے میں 17 افراد ہلاک اور ایک سو سے زیادہ زخمی ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں