دہلی میں پانچ سالہ لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی

دلی ریپ
Image caption دلی میں ریپ کے خلاف مظاہروں کے بعد بھی ریپ کے متعدد واقعات ہو رہے ہیں

پولیس کا کہنا ہے کہ بھارتی دارالحکومت دہلی میں ایک پانچ سالہ لڑکی کو اغوا کرکے اسے مبینہ طور پر کئی دنوں تک جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

اس کی چیخ سن کر ایک راہ گیر نے اسے بچایا۔ اسے سوموار کو اغوا کیا گیا تھا۔ لڑکی کو مقامی دیانند ہسپتال میں داخل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس کی حالت تشویشناک حد تک نازک ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مبینہ طور پراس لڑکی کے ایک پڑوسی نے چار دن قبل اسے اغوا کر لیا تھا اسے جنسی تشد کا نشانہ بنایا۔

بھارتی خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق سوامی دیانند ہسپتال کے میڈیکل سپریٹنڈنٹ آر این بنسل نے کہا ہے کہ انہوں نےکسی پانچ سالہ لڑکی کے ساتھ ایسا بہیمانہ سلوک پہلی بار دیکھا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’اس کے ہونٹوں اور رخسار پر زخموں کے نشان ہیں جبکہ اس کے گلے پر بھی زخم ہے جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اسکا گلا گھونٹ کر مارنے کی کوشش کی گئی تھی۔ جب وہ ہسپتال میں داخل کی گئي اس وقت اس کا بلڈ پریشر کم تھا اور اسے بخار بھی تھا۔‘

ڈاکٹر نے کہا کہ آئندہ 24 سے 48 گھنٹے اس کے لیے نازک ہیں۔

اس دوران ہسپتال کے باہر پولیس اور حکومت کے خلاف مظاہرہ جاری رہا۔ ٹیلی ویژن پر ایک پولیس افسر کو ایک لڑکی کو تھپڑ مارتے اور دوسری کو دھکا دیتے ہوئے دکھایا گیا۔ ان خبروں کے مطابق اس پولیس افسر کو معطل کر دیا گیا ہے۔

اس پانچ سالہ بچی کو بہتر علاج کے لیے دہلی میں قائم سب سے اہم سرکاری ہسپتال آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ پولیس ابھی ان لوگوں کی تلاش میں سرگرداں ہے جنھوں نے ایک دوسرے واقعے میں بدھ کی شب ایک انیس سالہ نوجوان خاتون کے ساتھ مبینہ طور پر گینگ ریپ کیا تھا۔ اور اسے برہنہ حالت میں پایا گیا تھا۔

اس کیس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اجتماعی جنسی زیادتی سے قبل بظاہر اس نوجوان خاتون کو نشہ آور چیز دی گئی تھی۔

گزشتہ ماہ بھارت نے ریپ کے مجرموں کے لیے ‎سزا میں سختی کی ہے جس میں سزائے موت بھی شامل ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال دہلّی کی ایک چلتی بس میں ریپ کے واقعے اور اس کے نتیجے میں متاثرہ کی موت کے بعد دارالحکومت میں مظاہروں کے ذریعے شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا اور ملک میں خواتین کے تئیں سماجی رویے پر پرزور بحث چھڑ گئي۔

اس واقعے کے بعد ریپ کے تعلق سے بنے پرانے قوانین میں ترمیم کی گئی تاہم یہ معاملہ اس ضمن ایک نیا بہیمانہ واقعہ ہے۔

اسی بارے میں