دہلی: بچی کے ساتھ ریپ کا مشتبہ ملزم گرفتار

دہلی ریپ
Image caption ریپ کے خلاف لوگوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے

بھارتی دارالحکومت دہلی کے گاندھی نگر علاقے میں ایک پانچ سالہ بچی کو یرغمال بنا کر اس کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے کے معاملے میں جمعہ کی رات بہار کے ضلع مظفرپور سے ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

بھارتی خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق دہلی پولیس اور بہار پولیس کی مشترکہ کارروائی میں اسے پکڑا گیا۔ دہلی میں پریس کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے مشرقی دہلی کے ڈی سی پی پربھاکر نے کہا کہ مشتبہ ملزم کا نام منوج ہے اور اس کی عمر 22 سال ہے اور اسے تفتیش کے لیے دہلی لایا جا رہا ہے۔

دہلی میں اس واقعے کے خلاف کئی جگہ احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں۔ یہاں تک کہ دہلی پولیس ہیڈکوارٹر کے باہر بھی مظاہرین جمع ہیں۔

اس درمیان بھارت کے اہم ترین ہسپتال آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس میں زندگی اور موت کے درمیان معلق متاثرہ بچی کو ڈاکٹروں کی ایک خصوصی ٹیم کی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔

بھارت کے وزیر اعظم من موہن سنگھ نے کہا ہے کہ وہ پانچ سال کی لڑکی کے ساتھ ہونے والی زیادتی پر بہت پریشان ہیں۔ اپنے ٹویٹ میں انھوں نے کہا کہ ’متاثرہ لڑکی کو ہر ممکن طبی امداد دی جائے گی۔‘

انہوں نے اس بہیمانہ واقعے کے خلاف مظاہرہ کر نے والی خواتین کے ساتھ کچھ پولیس حکام کے رویے کو مکمل طور پر ناقابل قبول قرار دیا ہے۔

وزیر اعظم من موہن سنگھ نے دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر سے بات کی ہے اور ان سے کہا ہے کہ قصوروار پولیس افسران کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائے۔

انہوں نے کہا، ’معاشرے کو اپنے اندر گہرائی سے جھانکنے کی ضرورت ہے۔ لوگوں کو ریپ اور ایسے نفرت انگیز جرائم والی ذہنیت کو ختم کرنے کے لیے کام کرنا چاہیے۔‘

اس سے قبل جمع کو دہلی پولیس نے بتایا کہ دہلی کے گاندھی نگر علاقے میں میں ایک پانچ سالہ لڑکی کو اغوا کرکے اسے مبینہ طور پر کئی دنوں تک جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

اس کی چیخ سن کر ایک راہ گیر نے اسے بچایا۔ بچی کو سوموار کو اغوا کیا گیا تھا۔ اسے مقامی دیانند ہسپتال میں داخل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ اس کی حالت تشویشناک حد تک نازک ہے۔

بھارتی خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق سوامی دیانند ہسپتال کے میڈیکل سپریٹنڈنٹ آر این بنسل نے کہا تھا کہ انھوں نے’کسی پانچ سالہ لڑکی کے ساتھ ایسا بہیمانہ سلوک پہلی بار دیکھا ہے۔‘

Image caption اس سے قبل گزشتہ سال دسمبر میں ریپ کے ایک واقعے پر دہلی میں غم و غصے کی شدید لہر پھوٹ پڑی تھی

انھوں نے مزید کہا، ’اس کے ہونٹوں اور رخسار پر زخموں کے نشان ہیں جب کہ اس کے گلے پر بھی زخم ہے جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اس کا گلا گھونٹ کر مارنے کی کوشش کی گئی تھی۔ جب وہ ہسپتال میں داخل کی گئي اس وقت اس کا بلڈ پریشر کم تھا اور اسے بخار بھی تھا۔‘

اس دوران ہسپتال کے باہر پولیس اور حکومت کے خلاف مظاہرہ جاری رہا۔ ٹیلی ویژن پر ایک پولیس افسر کو ایک لڑکی کو تھپڑ مارتے اور دوسری کو دھکا دیتے ہوئے دکھایا گیا۔ ان خبروں کے مطابق اس پولیس افسر کو معطل کر دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ پولیس ابھی ان لوگوں کی تلاش میں سرگرداں ہے جنھوں نے ایک دوسرے واقعے میں بدھ کی شب ایک 19سالہ خاتون کے ساتھ مبینہ طور پر گینگ ریپ کیا تھا، اور اسے برہنہ حالت میں پایا گیا تھا۔

اس کیس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اجتماعی جنسی زیادتی سے قبل بظاہر اس نوجوان خاتون کو نشہ آور چیز دی گئی تھی۔

گذشتہ ماہ بھارت نے ریپ کے مجرموں کے لیے ‎سزا میں سختی کی ہے جس میں سزائے موت بھی شامل ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ سال دہلّی کی ایک چلتی بس میں ریپ کے واقعے اور اس کے نتیجے میں متاثرہ کی موت کے بعد دارالحکومت میں مظاہروں کے ذریعے شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا اور ملک میں خواتین کے تئیں سماجی رویے پر پرزور بحث چھڑ گئي۔

اس واقعے کے بعد ریپ کے تعلق سے بنے پرانے قوانین میں ترمیم کی گئی تاہم یہ معاملہ اس ضمن ایک نیا بہیمانہ واقعہ ہے۔

اسی بارے میں