بھارت:سربجیت سنگھ پر حملے کے خلاف احتجاج

بھارت میں سربجیت سنگھ پر لاہور کی جیل میں ہونے والے حملے کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں۔

بھارت کے وزیراعظم نے سربجیت سنگھ پر حملے کو انتہائی افسوسناک قرار دیا ہے جبکہ سابق وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے کہا ہے کہ اس واقعے پر پاکستان سے شدید احتجاج کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا ہے کہ اس طرح کا واقعہ ایک مہذب دنیا میں پیش نہیں آنا چاہیے۔

خیال رہے کہ سربجیت سنگھ بائیس سال سے سزائے موت کے منتظر ہیں اور لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں قید ہیں۔سربجیت پر جمعہ کو ان کے دو ساتھی قیدیوں نے حملہ کیا تھا اور اس وقت لاہور کے جناح ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

سربجیت سنگھ پر حملے کے خلاف احتجاجی مظاہرے میں شریک ایک شخص چتن شرما نے برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ’ سربجیت سنگھ کو مارنے کی سازش کی گئی اور اس میں انہوں نے غیرانسانی رویہ اختیار کیا‘۔

بھارت کی حکومت نے سربجیت سنگھ کی اہلخانہ کو آگاہ کیا ہے کہ حکومتِ پاکستان نے چار افراد کو ویزے جاری کر دیے ہیں۔

سربجیت سنگھ کی بہن دلبیر کور نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’چاہتے ہیں کہ اس مشکل وقت میں ہم سربجیت سنگھ کے ساتھ ہوں، وہ اس وقت بلکل تنہا ہیں‘۔

پاکستان میں سربجیت سنگھ کے وکیل اویس شیخ نے اے ایف پی کو بتایا کہ بھارت میں کمشیری عسکریت پسند افضل گرو کو پھانسی دیے جانے کے بعد سے ان کے موکل کو دھمکیاں مل رہی تھیں۔

دریں اثناء لاہور کے جناح ہسپتال کے ایک ڈاکٹر نے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ’سربجیت سنگھ کی حالت اب بھی تشویشناک ہے اور انہیں وینٹی لیٹر پر رکھا گیا ہے، انہیں سر، جبڑے، پیٹ سمیت جسم کے کئی حصوں پر زخم لگے ہیں‘۔

اسی بارے میں