سربجیت پر حملہ غیر اسلامی، اجمیر شریف

سربجیت کے اہل خانہ
Image caption سربجیت سنگھ کے اہل خانہ کے چار افراد لاہور پہنچ گئے ہیں

بھارت میں خواجہ معین الدین چشتی کی درگاہ کے روحانی پیشوا نے پاکستان کی جیل میں سربجیت سنگھ پر حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔

درگاہ کے سربراہ سید زین العابدین علی خان نے ایک بیان میں اسے غیر اسلامی حرکت سے تعبیر کیا۔

سربجیت سنگھ بائیس سال سے سزائے موت کے منتظر ہیں اور لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں قید ہیں۔سربجیت پر جمعہ کو ان کے دو ساتھی قیدیوں نے حملہ کیا تھا اور اس وقت لاہور کے جناح ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

سید زین العابدین علی خان نے کہا کہایسا لگتا ہے کہ پاکستانی حکام کی جانب سے یہ ایک سازش ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارتی حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ اسلام آباد کے ساتھ اس مسئلے پر سخت احتجاج درج کرائے۔

اتوار کو اس معاملے پر اجمیر میں میڈیا سے بات چيت کرتے ہوئے درگاہ کے خادم نے کہا کہ وہ اس بات پر حیرت میں ہیں کہ پاکستان کے علماء آخر اس مسئلے پر خاموش کیوں ہیں۔

بھارت میں بعض مقامات پر سربجیت پر حملے کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے ہیں اور میڈیا میں اس بارے میں لمحے لمحے کی خبریں نشر کی جا رہی ہیں۔

حکومت پاکستان نے بھارتی شہری سربجیت سنگھ پر جیل میں ہوئے حملے کی تحقیقات کے لیے ایک ٹیم تشکیل دی ہے۔

اطلاعات کے مطابق اس معاملے میں جیل کے کچھ افسران کے خلاف کارروائی بھی کی گئی ہے اور کچھ افسران کو معطل بھی کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں