سربجیت کے علاج کے لیے بھارت کی پیشکش

سربجیت کے اہل خانہ
Image caption پاکستانی سفارت خانے نے سربجیت سنگھ کے اہل خانہ کے لیے ویزے جاری کر دیئے ہیں

بھارت کے وزیر خارجہ سلمان خورشید نے کہا ہے کہ ان کا ملک پاکستان میں زخمی ہونے والے قیدی سربجیت سنگھ کے علاج میں مدد کرنے کو تیار ہے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ جب تک پاکستان سربجیت سنگھ کے علاج میں مدد کے لیے درخواست نہیں کرتا، تب تک بھارت اس معاملے میں بہت کچھ نہیں کر سکتا۔

سلمان خورشید نے کہا کہ بھارت اس سلسلے میں پاکستان سے ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہے۔

انھوں نے اپنے روسی دورے کے دوران یہ یقین دہانی بھی کرائی ہے کہ پاکستان میں قید بھارتی شہری سربجیت سنگھ کو بھارت واپس لانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔

خیال رہے کہ سربجیت سنگھ بائیس سال سے سزائے موت کے منتظر ہیں اور لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں قید ہیں۔سربجیت پر جمعہ کو ان کے دو ساتھی قیدیوں نے حملہ کیا تھا اور اس وقت لاہور کے جناح ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

ہسپتال کے ایک ڈاکٹر نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ ’سربجیت سنگھ کی حالت اب بھی تشویشناک ہے اور انہیں وینٹی لیٹر پر رکھا گیا ہے، انہیں سر، جبڑے، پیٹ سمیت جسم کے کئی حصوں پر زخم لگے ہیں‘۔

دریں اثناء حکومت پاکستان نے بھارتی شہری سربجیت سنگھ پر جیل میں ہوئے حملے کی تحقیقات کے لیے ایک ٹیم تشکیل دی ہے۔

Image caption سربجیت پر پاکستانی جیل میں حملے کے خلاف بھارت کے کئی شہروں میں مظاہرے ہوئے

بی بی سی نمائندے عبادالحق نے بتایا کہ اس معاملے میں جیل کے کچھ افسران کے خلاف کارروائی کی گئی ہے اور کچھ افسران کو معطل بھی کیا گیا ہے۔ بہر حال ابھی اس معاملے میں سرکاری طور پر کوئی کچھ کہنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

دوسری جانب خبروں کے مطابق اتوار کو سربجیت سنگھ کے خاندان کے چار افراد کے پاکستان روانہ ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کیونکہ دہلی میں پاکستانی سفارت خانے نے سربجیت سنگھ کی بیوی سكھ پريت کور، بیٹیاں پونم اور سوپنديپ کور اور بہن دلبير کور کو سربجیت سنگھ سے ملنے کے لیے ویزا جاری کر دیا ہے۔

پاکستانی سفارت خانے کے ایک ترجمان نے بی بی سے کو بتایا کہ ویزے کی درخواست انہیں سنیچر کو موصول ہوئی تھی اور یہ کہ اس ضمن میں چار لوگوں کو ویزہ دیا گیا ہے جو کہ پندرہ دن کے لیے ہے۔

خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق سفارت خانے کے حکام نے سربجیت کے اہل خانہ کو بتایا ہے کہ پاکستان کی حکومت نے خاندان کے ایک فرد کو لاہور کے جناح اسپتال میں رکنے کی اجازت دے دی ہے۔

دوسری جانب بھارت کے کئی شہروں میں سربجیت پر ہوئے حملے کے خلاف مظاہرے شروع ہو گئے ہیں۔ احمد آباد میں مظاہرین نے پاکستان کے خلاف نعرے لگائے اور مظاہرہ کیا۔ جموں سے بھی مظاہروں کی خبریں آ رہی ہیں۔

بھارت کے وزیراعظم نے سربجیت سنگھ پر حملے کو انتہائی افسوسناک قرار دیا ہے جبکہ سابق وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے کہا ہے کہ اس واقعے پر پاکستان سے شدید احتجاج کیا جانا چاہیے۔

اسی بارے میں