پاکستانی شہری ثناءاللہ کی حالت تشویش ناک

ثناءاللہ
Image caption ثناءاللہ پر کچھ قیدیوں نے جمعہ کو جان لیوا حملہ کیا تھا

بھارت کی جیل میں جمعہ کے روز ایک حملے میں شدید زخمی ہونے والے پاکستانی شہری ثناءاللہ کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ان کی حالت انتہائي نازک ہے۔

سنیچر کی شام کو چنڈی گڑھ میں ڈاکٹروں کی ٹیم نے کہا کہ ثناءاللہ کی حالت اتنی نازک ہے کہ ان کو وینٹی لیٹر سے ہٹایا نہیں جا سکتا۔

سنیچر کی صبح اور پھر دوپہر میں پاکستانی ہائي کمیشن کے حکام نے ہسپتال میں ثناءاللہ کی عیادت کی اور ان کے مطابق بھی ان کی حالت تشویش ناک ہے۔

متاثرہ قیدی کا علاج کرنے والے ڈاکٹر کی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر منجو وڈوالکر نے ایک بیان میں کہا ’مریض کی حالت نازک ہے۔ وہ وینٹیلیٹر پر ہیں اور دوا کے ذریعے ان کے بلڈ پریشر کو برقرار رکھا جا رہا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ اس حالت میں انہیں وینٹی لیٹر سے ہٹایا نہیں جاسکتا اس لیے کہیں دوسری جگہ منتقل بھی نہیں کیا جا سکتا۔

ُادھر بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان اکبرالدین نے اپنے ایک ٹوئٹ کے ذریعے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ ثناءاللہ کی موت ہوگئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ خبر صحیح نہیں ہے۔

ہائی کمیشن کے حکام نے علی الصبح ملاقات کے بعد کہا تھا کہ ثناء اللہ کی حالت تشویش ناک ہے اور ان کے سر پر چوٹ لگنے کے سبب ’ان کے دماغ کا کچھ حصہ باہر نکال آیا ہے اور کندھوں سمیت کئی جگہ فریکچر ہے۔‘

واضح رہے کہ بھارت کے زیر انتظام جموں کشمیر میں جموں کے کوٹ بھلول جیل میں قید پاکستانی شہری ثناءاللہ پر کچھ قیدیوں نے جمعہ کو جان لیوا حملہ کیا تھا۔

اس سے قبل ثناءاللہ کو اس واقعے میں زخمی ہونے کے بعد جموں کے کوٹ بھلاول جیل سے فوری طور پر سرکاری میڈیکل کالج منتقل کیا گیا تھا۔

ڈاکٹروں کی جانب سے ان کی حالت سنگین بتائے جانے کے بعد انہیں ایئر ایمبولینس کے ذریعے چندی گڑھ کے ہسپتال پی جے ایم آر منتقل کر دیا گیا جہاں اس وقت ان کا علاج چل رہا ہے۔

واضح رہے کہ بھارتی قیدی سربجیت سنگھ کی موت کے ایک دن بعد ثناءاللہ پر یہ حملہ ہوا۔ سربجیت پر 26 اپریل کو لاہور کی جیل میں چھ قیدیوں نے وحشیانہ حملہ کیا تھا۔

اس حملے میں آئی چوٹوں کی وجہ سے وہ کوما میں چلے گئے تھے، بعد میں ان کی موت ہو گئی تھی۔

پاکستان نے ثنا اللہ پر قيديوں کے حملے کي مذمت کی ہے۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی قيدي پر حملہ بھارتی قيدي سربجيت سنگھ پر حملے کا بدلہ ہے۔

اسی بارے میں