سوشل میڈیا:گرفتاری کے لیے اجازت لینا ضروری

Image caption ریاستی حکومت کسی کو گرفتار کرنے سے پہلے سینیئر پولیس افسران کی اجازت لے: سپریم کورٹ

بھارتی سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ سوشل نیٹ ورکنگ سائٹوں پر قابل اعتراض تبصرہ کرنے والوں کو سینیئر پولیس افسران کی اجازت کے بغیر گرفتار نہیں کیا جانا چاہیے۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ تمام ریاستوں اور مرکز کے زیرِانتظام علاقوں کو مرکزی حکومت کی ہدایات پر عمل کرنا چاہیے۔

سپریم کورٹ نے شہری آزادی کی تنظیم پیپلز یونین فار سول لبرٹيز کی آندھرا پردیش شاخ کی سیکرٹری جنرل جیا ودھيالا کی گرفتاری سے متعلق درخواست پر سماعت کے دوران یہ بات کہی ہے۔

انہیں فیس بک پر تمل ناڈو کے گورنر کے روسيا اور کانگریس کے رکن امانچي کرشن موہن کے خلاف قابلِ اعتراض تبصرہ لکھنے کے الزام میں 12 مئی کو گرفتار کیا گیا تھا۔

مرکزی حکومت نے نو جنوری کو یک طرفہ ہدایات جاری کر کے کہا تھا کہ سوشل میڈیا پر قابل اعتراض ریمارکس کے معاملے میں کسی کو گرفتار کرنے سے پہلے سینیئر افسران کی اجازت لی جانی چاہیے۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ تمام ریاستوں کو مرکزی حکومت کے ہدایات پر عمل کرنا چاہیے۔

جسٹس بی ایس چوہان اور دیپک مشرا پر مشتمل بینچ نے ان ہدایات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ’ہم تمام ریاستی حکومتوں کو ہدایات دیتے ہیں کہ وہ اس طرح کی کسی بھی گرفتاری سے پہلے مرکزی حکومت کے مشورے پر عمل کریں۔‘

بینچ کا کہنا تھا کہ عدالت اس طرح کے معاملات میں گرفتاری کرنے پر پابندی نہیں لگا سکتی كيوں کہ سپریم کورٹ انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی دفعہ 66 اے کے آئینی جواز پر غور کر رہی ہے۔

مرکزی حکومت نے فیس بک پر پوسٹوں کو لائک کرنے اور کمنٹ کرنے کے معاملے میں ہونے والی ایک گرفتاری کے پیش نظر نو جنوری کو ہدایات جاری کی تھیں۔

مرکز کی طرف سے جاری ہدایات میں کہا گیا تھا کہ ریاستی حکومت دفعہ 66 اے کے تحت کسی کو بھی گرفتار کرنے سے پہلے سینیئر پولیس افسران کی اجازت لے۔

ہدایات میں مزید کہا گیا تھا کہ اس کے لیے بڑے شہروں میں پولیس انسپکٹر جنرل سے اجازت لی جائے، اور یہ اجازت پولیس اہلکار یا پولیس کمشنر یا ان سے اوپر کے رینک کے افسران ہی دے سکتے ہیں۔

اسی بارے میں