کشمیر: دراندازوں کا حملہ، فوجی افسر ہلاک

کشمیر
Image caption کشیمر میں موسم گرما میں دراندازی کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں تعینات بھارتی فوج کی پندرہویں کور نے دعوی کیا ہے کہ پاکستانی زیرانتظام کشمیر سے مسلح افراد کے ایک گروپ نے بھارتی علاقہ میں داخل ہونے کی کوشش کی جس کے دوران شدید تصادم ہوا۔

بھارتی فوج نے کہا ہے کہ اس تصادم میں ایک فوجی افسر ہلاک ہو گیا۔ فوجی ترجمان کا کہنا ہے کہ دراندازی کی یہ کوشش جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب کو شمالی کشمیر کے ماژھیل سیکٹر میں کی گئی۔

کپواڑہ کے اعلی پولیس افسر تیجندر سنگھ نے بی بی سی کو بتایا: ’اس علاقے میں برف پگھلنے کے ساتھ ہی دراندازی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ہم پچھلے دس روز سے بونل ون گاوں میں آپریشن کررہے ہیں۔‘

قابل ذکر ہے کہ پولیس نے پہلے ہی دعویٰ کیا ہے کہ کشمیر میں اب برائے نام عسکریت پسندی رہ گئی ہے۔ مقامی وزیراعلیِٰ اور علیحدگی پسند رہنما کشمیر میں نافذ سخت فوجی قوانین کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ اس معاملے پر وزیراعلیٰ عمرعبداللہ اور بھارت کی وزارت دفاع کے درمیان کئی سال سے کشیدگی جاری ہے۔

عمر عبداللہ نے حالیہ دنوں اپنے مطالبہ کا اعادہ کرتے ہوئے کہا: ’فوجی قوانین کی ضرورت تب تھی جب یہاں ملی ٹینٹ تھے۔ مٹھی بھر بندوق برداروں کے خلاف اس قدر سخت قانون کی کیا ضرورت ہے۔‘

لیکن اس معاملے میں بھارتی فوج اور عمرعبداللہ کے درمیان شدید اختلاف ہے۔ فوج کا کہنا ہے کہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں دہشت گردی کا ڈھانچہ ابھی پوری طرح ختم نہیں ہوا ہے، اس لیے سخت قوانین کے بغیر عسکریت پسندی کے خطرے کو ٹالا نہِیں جاسکتا۔

واضح رہے کشمیر میں نافذ آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ کے تحت انسانی حقوق کی خلاف ورزی میں ملوث کسی بھی فوجی کا قانونی مواخذہ نہیں ہوسکتا۔

دراندازی کے تازہ واقعہ کے بعد کشمیر کے حساس علاقوں میں سیکورٹی مزید سخت کردی گئی ہے۔

اسی بارے میں