بھارت کے زیرِانتظام کشمیر میں شدت پسند ہلاک

ہلال مولوی
Image caption ہلال راتھر نے دیو بند سے تعلیم حاصل کی تھی

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں پولیس نے ایک مطلوب مسلح شدت پسند کو جمعرات کی صبح سرینگر کے فتح کادل میں ایک تصادم کے دوران ہلاک کر دیا۔

پولیس کا کہنا ہے مارے گئے شدت پسند ہلال احمد راتھر عرف ہلال مولوی کا تعلق شمالی کشمیر کے پٹن قصبہ سے تھا۔ وہ قتل اور مسلح حملوں کے 13 معاملات میں پولیس کو مطلوب تھے۔

ہلال کے اہل خانہ کہتے ہیں کہ وہ چند سال قبل دارالعلوم دیوبند سے فارغ ہوئے تھے اور سنہ 2008 اور 2010 کی غیرمسلح احتجاجی تحریک میں شامل تھے۔

خفیہ پولیس کے ایک افسر نے بتایا کہ ہلال نے سنہ 2010 میں ہی کالعدم قرار دی گئی مسلح تنظیم لشکر طیبہ میں شمولیت اختیار کی تھی۔

واضح رہے کہ سنہ 2003 میں پاکستان کی اُس وقت کی حکومت نے ’کشمیر جہاد‘ کی حمایت تقریباً بند کردی، تو یہاں کے سرگرم مسلح گروپ کمزور پڑ گئے۔

عسکری تحریک کے زائل ہونے کے کئی سال بعد سنہ 2008 میں علیحدگی پسندوں نے عدم تشدد کا فلسفہ اپنایا اور عوامی مظاہروں کی مہم چلائی جو تین سال تک جاری رہی۔

اس مہم کو دبانے کے دوران ریاستی افواج کی فائرنگ سے کم از کم 200 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوگئے۔

حالات بظاہر معمول پر آگئے لیکن گرفتاریوں اور تھانوں میں پیشیوں کا لامتناہی سلسلہ بھی چل پڑا۔ ہزاروں نوجوان اور کم عمر لڑکوں کو تھانوں میں قید کیا گیا اور بیشتر کو جسمانی اذیتیں دی گئیں۔ نوجوانوں کو بدنام زمانہ قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کیا جاتا ہے اور برسوں عدالتی سماعت کے بغیر قید کیا جاتا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل اور بھارت میں سرگرم متعدد گروپوں نے بارہا حکومت ہند کو خبردار کیا کہ کشمیر میں زیادیتوں اور پولیس تعاقب سے نوجوان دوبارہ مسلح تشدد کی طرف مائل ہوں گے۔

پولیس ریکارڑ کے مطابق پچھلے تین سال کے دوران سوپور، شوپیان، پٹن ، سرینگر اور دوسرے علاقوں میں چھ سے زائد ایسے عسکریت پسند مارے گئے جن کا فوری ماضی سنگ بازی سے جُڑا تھا۔

معروف وکیل شفقت حسین کہتے ہیں ’پانچ سال کے دوران میرے پاس سیفٹی ایکٹ کے دو ہزار معاملات آئے‘۔ انھوں نے انکشاف کیا کہ فتح کدل میں مارے گئے ہلال مولوی کو بھی پتھراؤ کے الزام میں گرفتار کیا گيا تھا جس کے بعد اس کی ضمانت کے لیے انہوں نے پیروی کی۔

انہوں نے کہا ’اس نے مجھے بتایا کہ اسے حراست کے دوران اذیتیں دی گئیں۔ ایسے سلوک سے لڑکوں میں بغاوت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے‘۔

خیال رہے کہ کشمیر میں سنہ 1989 میں شروع ہوئی عسکری تحریک کشمیر کی تاریخ میں اپنی نوعیت کی واحد تحریک تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ پچھلے 22 سال کے دوران مختلف گرفتاریوں اور چھاپوں کے ذریعہ31,000 اے کے سینتالیس رائفلیں، 11,500 پستول،1,500 مشین گن، 40 لاکھ گولیاں، 70,000 ہتھ گولے اور کافی مقدار میں بارودی مواد برآمد کیا گیا۔

پولیس کے ایک اعلیِ افسر نے حالیہ دنوں میں انکشاف کیا کہ اس قدر گولی بارود 50,000 ہزار کی فوج قائم کرنے کے لیے کافی ہے۔

اب عسکری تحریک کا زور بظاہر ٹوٹ چکا ہے لیکن فلسطینوں کی طرز پر پتھروں سے مزاحمت کر نے والے نوجوانوں کے خلاف پولیس کا کریک ڈاون جاری ہے اور آج کل مسلح جھڑپوں میں مارے جانے والوں میں اکثریت ایسے لڑکوں کی ہوتی ہے جو پولیس کے تعاقب سے تنگ آ کر شدت پسندی میں شامل ہوتے ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ کشمیریوں نے عدم تشدد کا مظاہرہ کر کے حکومت ہند اور عالمی برادری کو متاثر کرنے کی شاندار کوشش کی۔

کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنما یاسین ملک کہتے ہیں ’ایسا لگتا ہے کہ حکومت سنگ بازوں کو جنگ باز بنانے کے لیے بے چین ہے لیکن اگر یہاں کے نوجوانوں کو پشت بہ دیوار کیا گیا تو اب کی بار جو سیلاب اُٹھے گا وہ بہت کچھ بہا لے جائے گا‘۔

اسی بارے میں