’نکسل شدت پسندی کے خلاف جنگ مل کر لڑنی ہوگی‘

Image caption یہ جمہوریت کے لیے ایک تاریک دن ہے اور یہ جنگ سب کو مل کر لڑنی ہے:منموہن سنگھ

بھارتی ریاست چھتیس گڑھ میں نکسل باغیوں کے حملے میں متعدد کانگریسی رہنماؤں سمیت 24 افراد کی ہلاکت کے بعد بھارت کے وزیراعظم منموہن سنگھ نے ایک مرتبہ پھر نکسلی تشدد کے خلاف سخت کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔

سنیچر کو ہونے والے حملے میں کانگریس کے سینیئر رہنما مہندر کرما کے علاوہ سابق رکن اسمبلی ادے مودليار اور گوپی مادھواني موقع پر ہی مارے گئے تھے جبکہ باغی حملے کے بعد کانگریس کے ریاستی صدر اور سابق وزیراعلیٰ نند کمار پٹیل اور ان کے بیٹے دنیش کو اغوا کر کے لے گئے تھے۔

نند کمار پٹیل اور ان کے بیٹے کی لاشیں اتوار کی صبح جائے واردات سے کچھ دور پائی گئی ہیں۔

اتوار کو کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کے ہمراہ ریاستی دارالحکومت رائے پور میں اس حملے میں ہلاک ہونے والوں کے اہلخانہ اور زخمیوں سے ملاقات کے بعد بھارتی وزیراعظم نے کہا کہ نکسلی شدت پسندی کے خلاف لڑائی میں سختی لانا ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ جمہوریت کے لیے ایک تاریک دن ہے اور یہ جنگ سب کو مل کر لڑنی ہے۔ منموہن سنگھ نے یہ بھی کہا کہ ہماری پہلی ترجیح زخمیوں کو سب سے بہتر علاج مہیا کرنا ہے۔

انہوں نے مرنے والوں کے اہلِخانہ کے لیے وزیراعظم قومی مدد فنڈ سے پانچ لاکھ اور زخمیوں کے لیے 50 ہزار روپے فی کس امداد کا اعلان کیا ہے۔

اس سے قبل ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ’وحشیانہ حملے میں مارے گئے لوگ شہید ہیں۔‘ کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے اسے ’جمہوری اقدار پر حملہ قرار دیا ہے‘۔

Image caption ماؤ باغیوں نے بارودی سرنگ کا دھماکا کر کے گاڑیاں رکوائیں اور پھر فائرنگ کر دی

جگدلپر کے ایس پی ميك شریواستو نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ سنیچر کو ضلع دانتیواڑہ میں ہونے والے حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 24 ہو گئی ہے جن میں آٹھ پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

ادھر حملے میں زخمی ہونے والے پارٹی کے سینیئر رہنما اور سابق مرکزی وزیر ودیا چرن شکلا کی حالت کافی نازک ہے۔ انہیں پیٹ اور پیر میں کئی گولیاں لگی ہیں۔

وزیراعظم منموہن سنگھ اور سونیا گاندھی اتوار کو چھتیس گڑھ پہنچ رہے ہیں جبکہ کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی پہلے ہی وہاں پہنچ چکے ہیں۔

چھتیس گڑھ کے وزیر اعلی رمن سنگھ نے اس واقعہ کے بعد ریاست میں تین دن کے سرکاری سوگ کا اعلان کیا ہے۔

یہ حملہ چھتیس گڑھ کے ریاستی دارالحکومت رائے پور کے قریب ہوا اور اس میں کانگریس کے ایک انتخابی قافلے کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق مہندر کرما اور ان کے ساتھیوں کو دو سو سے زیادہ ماؤ نوازوں نےگھیر لیا اور ان پر گولیاں برسا دیں۔

اطلاع کے مطابق کانگریس کے یہ رہنما ضلع بستر کے علاقے درباگھاٹی میں ایک سیاسی ریلی کے بعد واپس آ رہے تھے کہ باغیوں نے ایک بارودی سرنگ کا دھماکا کر کے ان کی گاڑیاں رکوائیں اور پھر اندھادھند فائرنگ کر دی۔

اس حملے میں 32 افراد زخمی بھی ہوئے جنہیں ابتدائی طور پر جگدلپر ہسپتال میں داخل کرایا گیا۔

اس واقعے میں ہلاک ہونے والے مہندر کرما چھتیس گڑھ میں کانگریس کے سینیئر لیڈر تھے اور نكسل مخالف سلوا جڈم مہم کے بانی مانے جاتے تھے۔ وہ ریاستی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر رہ چکے تھے اور ان پر پہلے بھی حملے ہوئے تھے۔

چھتیس گڑھ ریاست میں بی جے پی اقتدار میں ہے اور ریاست میں اس سال کے اواخر تک اسمبلی انتخابات ہونے والےہیں۔ یہ ریاست ماؤنوازوں سے سب سے زیادہ متاثرہ ریاست ہے اور یہاں ماؤ نوازوں کے حملے اور پولیس سے ان کے تصادم میں سینکڑوں لوگ مارے جا چکے ہیں۔

اسی بارے میں