بے قصوروں کی ہلاکت پر افسوس ہے:ماؤ نواز

چھتیس گڑھ حملہ
Image caption ماؤنواز کے حملے میں چوبیس افراد مارے گئے

بھارت کی وسطی ریاست چھتیس گڑھ میں کانگریس رہنماؤں پر حملے کے تین دن بعد بھارت کے ماؤ نواز باغیوں نے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

تنظیم نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ ’جبر کی پالیسیوں‘ کو نافذ کرنے میں حکمراں جماعت کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی ایک جیسی ہے اور ان کی لڑائی دونوں سے ہے مگر ماؤنواز گروپ نے بے قصور لوگوں کی موت پر افسوس کا اظہار بھی کیا ہے۔

تنظیم کے مطابق کانگریس کے رہنماؤں کے علاوہ جو ڈارئیور یا دوسرے لوگ مارے گئے ہیں ان پر انہیں افسوس ہے۔

پیر کی رات کو بی بی سی کو بھیجے گئے ایک خط اور ایک ریکارڈ شدہ بیان میں دنڈکارنیہ یا ریڈ زون زونل کمیٹی کے ترجمان گوڈسا سینڈي کا کہنا ہے کہ ریاست کے سابق وزیر داخلہ اور چھتیس گڑھ ریاستی کانگریس کمیٹی کے صدر نندكمار پٹیل عوام کے خلاف ’جابرانہ نظام چلانے میں پیش پیش تھے‘۔

سینڈي کا کہنا ہے کہ پٹیل کے وقت میں ہی بستر کے علاقے میں پہلی بار نیم فوجی دستوں کو تعینات کیا گیا تھا۔

گزشتہ ہفتے چھتیس گڑھ میں کانگریس کے کارکنوں اور رہنماؤں کی ریلی سے واپس آنے والے قافلے پر بڑا نکسلی حملہ ہوا تھا جس میں صوبائی صدر نند کمار اور سینیئر لیڈر مہندر کرما سمیت 24 افراد کی موت ہو گئی تھی۔

حملے کی ذمہ داری لیتے ہوئے تنظیم نے کہا ہے کہ قبائلی لیڈر کہلانے والے مہندر کرما کا تعلق ’ایک جاگیردارانہ مانجھی خاندان‘ سے رہا۔

اس حملے کی وزیر اعظم منموہن سنگھ اور کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے سخت الفاظ میں مذمت کی تھی۔

وزیر اعظم کی جانب سے ہلاک ہونے والے افراد کے اہلخانہ کو پانچ پانچ لاکھ اور زخمیوں کو پچاس پچاس ہزار روپے معاوضے کا اعلان کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں