بھارت میں ٹیلی کام صارفین کی نگرانی پر تشویش

حقوق انسانی کی بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے بھارت میں موبائل فونز اور انٹرنیٹ صارفین کی نگرانی کے نئے نظام پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ بھارت میں موبائل فونز اور انٹرنیٹ کے کنکشز کی نگرانی کے نظام سے صارفین کی نجی زندگی اور آزادی رائے کو خطرہ لاحق ہو جائے گا۔

ہیومن رائٹس واچ کے مطابق بھارت میں پرائیویسی سے متعلق قوانین اتنے سخت نہیں ہیں جن کے ذریعے قابل ذکر دست دراز طاقت سے لوگوں کو محفوظ رکھا جا سکے۔

بھارت میں اپریل میں سینٹرل مانیٹرنگ سسٹم کو نصب کیا تھا جس کے تحت حکومت کو ٹیلی کمیونیکیشن نیٹ ورک تک مکمل طور پر رسائی ممکن ہو جاتی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ وہ معلومات کو حاصل کرتے وقت کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں کریں گے۔

دسمبر سال دو ہزار بارہ میں بھارت کے وزیرِ ٹیکنالوجی میلند دیورا نے پارلیمان کو بتایا تھا کہ نگرانی کے نظام کے ذریعے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ٹیلی فون سروس اور انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کی جائے گی۔

ہیومن رائٹس واچ کے سینیئر محقق سنتھیا وانگ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’بھارتی حکومت کی نگرانی کا سینٹرل نظام انٹرنیٹ قوانین اور سرکشی کے غیر ذمہ دار اور لاپرواہ استعمال کی خوفناک اجازت دیتا ہے۔ دنیا بھر میں نگرانی کی صلاحتیں صحافیوں اور حقوق انسانی کے کارکنوں کو ہدف بنانے کا حربہ ہیں۔‘

اسی بارے میں