دہشت گردی کی سیاسی شطرنج

خالد مجاہد
Image caption خالد مجاہد عدالت میں سماعت کےبعد واپس ہوتے وقت پولیس کی حراست میں پر اسرار طور پر مردہ پائے گئے

بھارت کی ریاست اتر پردیش میں ہائی کورٹ نے حکومت کے اس حکم پر روک لگا دی ہے جس کے تحت ریاست کے بعض مسلم نوجوانوں کے خلاف زیرِ سماعت دہشت گردی کے مقدمات واپس لینے کا عمل شروع کیاگیا تھا۔

یہ دوسری بار ہے جب عدالت نے دہشت گردی کے مقدمات ختم کرنے کے حکومت کے فیصلے کو مسترد کیا ہے۔

چند برس قبل ریاست کے کئی مقامات پر بم دھماکوں کے سلسلے میں درجنوں مسلم نوجوانوں کو کرفتار کیا گیا تھا۔ ان میں سے بیشتر اپنی بے گناہی کا دعویٰ کرتے رہے ہیں۔

مایاوتی کی سابقہ حکومت نے دہشت گردی کے معاملات میں بے قصور مسلم نوجوانوں کو پھنسانے کے الزامات کی روشنی میں ایک کمیشن قائم کیا تھا جس کی رپورٹ کئی برس گزر جانے کے باوجود اسمبلی میں پیش نہیں کی گئی ہے۔

لیکن بعض اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ اس کمیشن نے اپنی رپورٹ میں تفتیش کی سنگین خامیوں اور پولیس کی زیادتیوں کو اجاگر کیا ہے۔

اکھیلیش یادو نے اقتدار میں آنے سے قبل اپنے انتخابی منشور میں یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ بے قصور مسلمانوں کے خلاف تمام مقدمات واپس لیں گے۔ دہشت گردی کے معاملات معمولی جرم کے زمرے میں نہیں آتے، ان کا کارروائیوں کامقصد بہیمانہ تشدد کے ذریعے عوام کو دہشت زدہ کرنا اور ریاست کی رٹ پر کاری ضرب مارنا ہوتا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اتر پردیش ہی نہیں پورے ملک میں سیکڑوں بے قصور مسلمانوں کو دہشت گردی کے الزام میں برسوں سے اور اکثر واقعات میں مقدمے کی سماعت کے بغیر قید میں رکھا گیا۔ لیکن جس بھونڈے طریقے سے اتر پریش کے وزیر اعلیٰ اکھیلیش یادو نے ریاست کے بعض مسلمانوں کے خلاف زیر سماعت مقدمات واپس لینے کا طریقہ اختیار کیا تھا اس سے یہ واضح تھا کہ اس عمل میں سنجیدگی اور ذمے داری کم اور سیاست کا دخل زیادہ تھا۔

اکھلیش یادو نے جو طریقہ اختیار کیا اس سے مسلمانوں کے خلاف غیر مسلم آبادی کے جذبات جو پہلے ہی خراب تھے، مزید بر انگیختہ ہو گئے۔ پہلے کیس میں جن دو افراد کے خلاف حکومت نے مقدمات واپس لیے ان میں سے ایک گذشتہ مہینے عدالت سے واپس جاتے ہوئے پولیس کی تحویل میں پراسرار طور پر مرے ہوئے پائے گئے ۔

کچھ دنوں پہلے دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کیےگئے بہار کے ایک نوجوان کو پونے کی جیل میں قتل کر دیا گیا تھا۔ ان کی گواہی پر بعض دیگر نوجوانوں کی بےگناہی ثابت ہو سکتی تھی۔

یہ سبھی کو معلوم ہے کہ کس طرح ممبئی کی انسداد دہشت گردی پولیس نے مالیگاؤں بم دھماکوں کے سلسلے میں گیارہ مسلم نوجوانوں کو چھ برس تک جیل میں رکھا اور ان کے خلاف ہر طرح کے ثبوت پیش کیے جب کہ اسی معاملے میں بعض ہندو شدت پسندوں کو گرفتار کیا گیا ہے ۔یہی حال حیدرآباد کے بعض معاملات کا رہا ہے۔

ابھی کچھ روز قبل دلی میں کشمیر کے تین نوجوان بزنس مین کو تہاڑ جیل سے رہا کیا گیا۔ وہ آٹھ برس سے دہشت گردی کے الزام میں جیل میں بے قصور قید تھے۔ پچھلے ہی مہینے این آئی کی تفتیش کے بعد ایک کشمیری نوجوان کو قید سے رہا کیا گیا ہے۔ وہ حکومت کی باز آبادکاری کی پالیسی کے تحت اپنی فیملی کے ہمراہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے واپس لوٹے تھے۔

دلی پولیس نے انہیں حزب المجاہدین کا خونخوار دہشت گرد بتا کرگرفتار کیا تھا اور اس کے قبضے سے ہتھیار اور دھماکا خیز مواد بھی بر آمد کیا تھا۔ پولیس کا کہنا تھا کہ وہ ہندوؤں کے تہوار پر بڑے پیمانے پر تباہی مچانے کے لیے بھارت آیا تھا۔

دہشت گردی ملک کے سامنے بہت بڑا چیلنج ہے لیکن بے قصور مسلمانوں کی گرفتاریوں کے بارے میں مسلمانوں کی تشویش بھی پوری طرح حق بجانب ہے۔

البتہ دہشت گردی کے حوالے سے مسلمانوں کو اپنے دامن میں جھانکنے کے ساتھ ساتھ کسی اکھیلیش، کسی مایاوتی اور کسی لالو یا کسی دگ وجے کی سستی سیاست کا شکار بننے کے بجائے بھارت کی سپریم کورٹ سے یہ اپیل کرنی چاہیے کہ وہ برسوں سے زیر التوا دہشت گردی کے سیکڑوں مقدمات کی سماعت تیز رفتار عدالتوں میں کرنے کا حکم جاری کرے۔

اسی بارے میں