بی جے پی پوری طرح مودی کی گرفت میں

Image caption مودی کو بی جے پی کے سبھی وزرا اعلیٰ نے مبارک باد پیش کی

ایل کے اڈوانی اور بی جے پی کے کئی قد آور رہنماؤں کی شدید مخالفت کے باوجود گجرات کے وزیراعلیٰ نریندر مودی کو بالآخر بی جے پی کی انتخابی کمیٹی کا سربراہ مقرر کر دیا گیا۔

جس وقت گوا میں بی جے پی کی کانفرنس میں پارٹی صدر راج ناتھ سنگھ نے مودی کے نام کا اعلان کیا، بی جے پی کے سبھی وزراء اعلیٰ، رہنما اور مندوبین نے کھڑے ہو کر اس اعلان کا خیر مقدم کیا اور ہال میں کئی منٹ تک تالیاں بجتی رہیں۔

پورا ماحول ایسا بنا ہوا تھا کہ جیسے مودی کو انتخابی کمیٹی کا چیئرمین نہیں ملک کا وزیراعظم بنا دیا گیا ہو۔ مودی کی تقرری پر پورے ملک میں بی جے پی کے حامیوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔

نریندر مودی مسلسل تیسری بار گجرات کے وزیراعلیٰ کے عہدے پر فائز ہیں اور ان کی نظریں کئی برس سے دہلی پر مرکوز ہیں۔

بی جے پی کی اعلیٰ قیادت میں سینیئر رہنما اڈوانی کے علاوہ ارون جیٹلی، سشما سوراج، مرلی منوہر جوشی اور یشونت سنہا جیسے بڑے بڑے قابل اور متحرک رہنما موجود ہیں جو کہ ابتدا سے ہی قومی سیاست کا حصہ رہے ہیں۔

مودی جیسے ایک علاقائی رہنما کا دہلی میں اچانک ظہور ان اعلیٰ رہنماؤں کو ہی نہیں، ان کی نظریاتی تنظیم آر ایس ایس کو بھی قبول نہیں تھا۔

مرکز میں کانگریس کی انتہائی بری کارکردگی، کانگریس کی تھکی اور فرسودہ سیاست، حکومت کے ہر بڑے قدم پر بدعنوانی کے الزامات اور کانگریس میں مستقبل کی قیادت کا بحران، ان سبھی نے مل کر اپوزیشن کے لیے ایک بہترین راہ ہموار کی ہے۔

اڈوانی اور ان کے دیگر ساتھی کانگریس کی ہی طرز کی سیاست کی نمائندگی کرتے ہیں۔

ملک کی نوجوان اکثریت، شہری آبادی اور کسان سبھی پینسٹھ برس سے قائم فرسودہ سیاسی نظام سے تنگ آئے ہوئے ہیں۔ وہ ملک میں بڑی اور فیصلہ کن تبدیلی کے خواہش مند ہیں۔

مودی اگرچہ گجرات میں اپنے تیرہ برس کے اقتدار میں کوئی انقلاب تو نہیں لائے لیکن اپنی طرز حکومت سے یہ ضرور ثابت کر دیا ہے کہ وہ بڑے خواب دیکھنے اور انہیں حاصل کرنے کی بصیرت رکھتے ہیں۔

مودی نے انتخابی کمیٹی کا سربراہ بننے کے بعد ایک ٹویٹ پیغام میں کہا ہے ’میں ایک ایسے بھارت کی تعمیر کے لیے کام کروں گا جس میں کانگریس کا کوئی وجود نہیں ہوگا ۔‘

مودی کا انتخاب بی جے پی میں مودی کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مقبولیت کے سبب زبردست دباؤ میں کیا گیا ہے۔ اس وقت پارٹی پوری طرح مودی کی گرفت میں ہے۔ مودی ہی اب پارٹی کا چہرہ ہیں۔

ان کا قد پارٹی سے اونچا ہو چکا ہے۔ آر ایس ایس اور بی جے پی کے سامنے مودی کو تسلیم کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا چارہ نہیں بچا ہے۔

مودی پر 2002 میں گجرات میں ہونے والے فسادات کو دانستہ طور پر نہ روکنے اور ملزموں کی پشت پناہی کا الزام رہا ہے۔ لیکن ابھی تک وہ فسادات سے متعلق سوالات کا جواب دینے سے گریز کرتے رہے ہیں۔ ان کا طریقہ کار بہت منفرد ہے اور وہ اختیارات کو مضبوطی کے ساتھ اپنے ہاتھ میں رکھتے ہیں۔

انہوں نے اپنے کام کاج سے اپنے گھر والوں کو ہمیشہ الگ رکھا ہے۔ ان کے اوپر کبھی بے ایمانی یا بدعنوانی کا الزام نہیں لگا۔ فسادات کے بعد بھارتی میڈیا ہمیشہ ان کے خلاف رہا ہے لیکن مودی ثابت قدمی سے اپنے موقف پر اٹل رہے۔ یہ سبھی باتیں انہیں عوام میں مقبول بناتی گئیں۔

2014 کے پارلیمانی انتخاب میں وہ اپوزیشن اتحاد کی قیادت کریں گے۔ انہیں بہار کے نتیش کمار کو چھوڑ کر اپنے تمام اتحادیوں سے زبردست حمایت مل رہی ہے۔

حکمراں کانگریس کے پاس جس طرح گجرات میں مودی کا سامنا کرنے کے لیے کو متبادل پروگرام اور موثر قیادت نہیں، وہی حالت اس کی دہلی میں بھی ہے ۔ایک طرف مودی کی مقبولیت ملک گیر سطح پر غیر معمولی طور پر بڑھ رہی ہے تو دوسری جانب کانگریس قیادت کے بحران کا شکار ہے اور اس منظرنامے میں 2014مودی کے لیے اچھا سال ثابت ہو سکتا ہے۔

اسی بارے میں