اڈوانی احتجاجاً پارٹی کے تمام عہدوں سے مستعفی

Image caption راج ناتھ سنگھ کے مطابق ابھی کرشن اڈوانی کا استعفیٰ منظور نہیں کیا گیا ہے

بھارت میں اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینیئر ترین رہنما لال کرشن اڈوانی نے پارٹی کے تمام عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

لال کرشن اڈوانی بظاہر گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کی تاج پوشی سےناراض ہیں۔ وہ نریندر مودی کو انتخابی مہم کی مکمل ذمہ داری دیے جانے کی مخالفت کر رہے تھے اور بتایا جاتا ہے کہ اسی لیے انہوں نے گوا میں پارٹی کی قومی مجلس عاملہ کے اجلاس میں بھی شرکت نہیں کی تھی۔

لال کرشن اڈوانی کا فیصلہ بی جے پی کے لیے بری خبر ہے کیونکہ وہ پارٹی کے بانیوں میں سے ایک ہیں اور بی جے پی کو قومی سطح پر اقتدار تک پہنچانے کا سہرا انہی کے سر باندھا جاتا ہے۔

بی جے پی کے صدر راج ناتھ سنگھ کے نام ایک خط میں لال کرشن اڈوانی نے کہا کہ بی جے پی نے اب جو سمت اختیار کی ہے اس میں وہ اپنے لیے جگہ تنگ محسوس کر رہے ہیں۔

’میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ اب یہ وہ اصولوں والی پارٹی نہیں رہی جو اٹل بہاری واجپئی، شیاما پرساد مکھرجی اور دین دیال اپادھیائے نے قائم کی تھی، کچھ عرصے سے مجھے پارٹی کے کام کاج کے طریقے اور اس کی سمت کو تسلیم کرنے میں دشواری ہو رہی تھی، اب زیادہ تر رہنما صرف اپنےایجنڈے کے لیے کام کر رہے ہیں‘۔

راج ناتھ سنگھ کے مطابق اڈوانی کا استعفیٰ ابھی منظور نہیں کیا گیا ہے اور انہیں منانےکی کوششیں جاری ہیں۔

گوا کے اجلاس کے دوران پارٹی کے اندرونی اختلافات کھل کر سامنے آئے تھے اور جسونت سنگھ، یشونت سنہا اور اوما بھارتی جیسے سرکردہ رہنماؤں نے بھی اجلاس میں شرکت نہیں کی تھی۔

لال کرشن اڈوانی خود کو وزیرِاعظم کے عہدے کا دعویدار گردانتے ہیں اور مانا جاتا ہے کہ لوک سبھا میں حزبِ اختلاف کی رہنما سشما سواراج بھی ان کے ’خیمے‘ میں شامل ہیں۔

سنہ 1990 کے عشرے میں ایل کے اڈوانی کی قیادت میں ’رام مندر‘ کی تحریک چلائی گئی تھی اور سنہ 1991 میں ’رام مندر‘کی تعمیر کے لیے ایل کے اڈوانی کی ’رتھ یاترا‘ نے بی جے پی کے برسراقتدار آنے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔

چھ دسمبر سنہ 1992 کو جب بابری مسجد مسمار کی گئی تو اس و قت ایل کے اڈوانی بھی ایودھیا میں موجود تھے۔

ایل کے اڈوانی پچاسی برس کے ہیں اور وہ تمام عمر ہندو قوم پرست تنظیم آر ایس ایس سے وابستہ رہے ہیں لیکن سنہ 2009 کے پارلیمانی انتخابات کے بعد آر ایس ایس نے انہیں نوجوان رہنماؤں کے لیے ’سرپرست‘ کا کردار ادا کرنےکا مشورہ دیا تھا۔تب سے پارٹی پر ان کی گرفت کمزور پڑی ہے لیکن انہوں نے کبھی واضح الفاظ میں یہ نہیں کہا کہ وہ اب وزیرِاعظم کے عہدے کے اْمیدوار نہیں ہیں۔

اسی بارے میں