کیا نریندر مودی وزیر اعظم بن پائیں گے

Image caption مودی کا جادو اب اسی طرح سر چڑھ کر بول رہا ہے جیسے 2004 کے انتخابات تک اڈوانی کا بولتا تھا

انڈیا میں قوم پرست جماعت بی جے پی نے تو ان کے سامنے سر جھکا دیا لیکن وزیرِاعظم کے عہدے اور نریندر مودی کے درمیان اب بھی بنیادی طور پر دو رکاوٹیں ہیں۔

2014 کے پارلیمانی انتخابات اور کچھ بھولی بسری یادیں جو انھیں ستانے کے لیے لوٹ سکتی ہیں!

مودی کے میدان میں اترنے سے بھارتی سیاست دو خیموں میں تقسیم ہو جائے گی۔ ایک طرف وہ جو ان کی حمایت میں حد سےگزر جاتے ہیں اور دوسری طرف وہ جو ان کی مخالفت میں حدوں کی پرواہ نہیں کرتے۔

ملک میں دونوں کی کمی نہیں ہے۔

سمجھا جاتا ہے کہ ان دونوں کے ہی جذبات کا ان کی حکمرانی کے ریکارڈ یا گجرات کی اقتصادی ترقی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مودی ہندوتوا کے کٹر نظریے کے علم بردار ہیں، قوم کا وقار سر بلند رکھنے کے لیے وہ پاکستان اور چین کو سبق سکھانا چاہتے ہیں اور کانگریس اور راہل گاندھی کو گھر بٹھانا ان کی اولین ترجیح ہے۔

وہ مسلمانوں کو کتنا پسند کرتے ہیں، یہ تو معلوم نہیں لیکن ایک عوامی جلسے میں انہوں نے ٹوپی پہننے سے ضرور صاف انکار کر دیا تھا۔

ایسا پہلے بھی ہوا ہے

2014 کے پارلیمانی انتخابات میں اب ایک طرف مودی ہوں گے اور دوسری طرف وہ تمام حقیقی اور خود ساختہ سیکیولر طاقتیں جو ان کے نظریے کو مذہبی آہنگی اور قومی سالمیت کے لیے خطرہ مانتی ہیں۔

یہ منظر نامہ کچھ جانا پہچانا سا لگتا ہے۔ 1990 کے عشرے میں جب رام مندر کی تحریک عروج پر تھی اور بی جے پی کے سینیئر رہنما لال کرشن اڈوانی کی رتھ یاترا ملک کو مذہبی جنون کی طرف دھکیل رہی تھی تب بھی سیاسی حالات کچھ ایسے ہی تھے۔ وہیں سے اقتدار کی طرف بی جے پی کا سفر شروع ہوا تھا لیکن اس کے معمار ایل کے اڈوانی کبھی وزیر اعظم نہیں بن سکے!

مودی کا جادو اب اسی طرح سر چڑھ کر بول رہا ہے جیسے 2004 کے انتخابات تک اڈوانی کا بولتا تھا۔ لیکن اڈوانی کا امیج بھی ایک ہارڈ لائن ہندو قوم پرست کا تھا جس کی وجہ سے این ڈی اے میں شامل جماعتوں کو وہ قبول نہیں تھے۔ مودی کی تاج پوشی کے ساتھی ہی ایل کے اڈوانی کا دور تو ختم ہوگیا لیکن وہ مشکلات باقی رہیں گی جن کا اڈوانی کو سامنا تھا۔

موت کے سوداگر

2007 کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس پارٹی کی صدر سونیا گاندھی نے نریندر مودی کو ’موت کا سوداگر‘ کہا تھا۔ کیونکہ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے2002 کے مسلم مخالف فسادات کے دوران پولیس کو مداخلت نہ کرنے کی ہدایت دی تھی، باوجود اس کے کہ سینکڑوں کی تعداد میں بے گناہ لوگ مارے جا رہے تھے۔ نریندر مودی اس الزام کو مسترد کرتے ہیں اوران کے خلاف کبھی کوئی مقدمہ قائم نہیں کیا جا سکا ہے۔

ان کے قریبی معتمد اور سابق وزیر داخلہ امت شاہ کو پولیس نے فرضی مقابلوں کے سلسلے میں گرفتار کیا تھا۔ وہ اب ضمانت پر رہا ہیں اور انہیں اتر پردیش کا الیکشن انچارج بنایا گیا ہے۔

سہراب الدین شیخ کوثر بی، تلسی رام پرجاپتی اور عشرت جہاں کی فرضی مقابلوں میں ہلاکت کے الزام میں ریاست کے کئی سینیئر پولیس افسران جیل میں ہیں اور تفتیش کار یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ان مقابلوں میں اور کس کس کا ہاتھ تھا۔ لیکن بی جے پی کا الزام ہےکہ ان کیسوں میں حکومت سی بی آئی کو استعمال کر کے خود نریندر مودی کو پھنسانےکی کوشش کر رہی ہے۔

یہ صرف الزامات ہیں، لیکن انتخابی مہم میں سیاستدان عدالت کے فیصلوں کا انتظار نہیں کیا کرتے۔ یہ نریندر مودی اور کانگریس سے زیادہ مودی کی حمایت اور ان کی مخالفت کرنے والوں کے درمیان مقابلہ ہوگا۔

اور دونوں ہی وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔

اگر مودی مخالف جماعتیں جیت جاتی ہیں تو یہ سخت گیر ہندوتوا کے ساتھ مودی کے امیج کی بھی شکست ہوگی اور بی جے پی شاید پھر ایک نئی نظریاتی سمت اور نیا رہنما تلاش کرنا چاہے گی۔

عام تاثر یہ ہے کہ بی جے پی کو واضح اکثریت ملنے کی صورت میں ہی مودی وزیر اعظم بن پائیں گے، اگر کچھ کمی رہی تو تاریخ پھر خود کو دہرائے گی۔ محنت کسی کی ہوگی اور ٹوپی کوئی اور پہنے گا۔