سوشل میڈیا پر بی جے پی کا ہدف

Image caption سماجی رابطوں کی سائٹس کے استعمال میں بی جے پی کو آگے مانے جاتا ہے

بھارت کی سیاسی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو ہمیشہ سے ٹیکنالوجی کے متعلق بیدار پارٹی کے طور پر جانا جاتا رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ پارٹی نے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر اپنی موجودگی بھی درج کروائی ہے۔

پارٹی کا اپنا آئی ٹی سیل یعنی انفارمیشن ٹیکنالوجی یونٹ ہے۔ جو پارٹی کا ڈیجیٹل کام دیکھتی ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر پارٹی کا اپنا صفحہ ہے جس پر اسے نو لاکھ باسٹھ ہزار سے زیادہ افراد نے پسند کیا ہے۔ ٹوئٹر پر بھی پارٹی فعال دکھائی دیتی ہے اور اس کو فولو کرنے والوں کی تعداد اکتیس ہزار سے زیادہ ہے۔

ٹوئٹر پر پارٹی نہ صرف مختلف مسائل پر لوگوں کی رائے مانگتی ہے بلکہ پارٹی سے وابستہ معلومات بھی فراہم کرتی ہے۔ كوئز منعقد کراتی ہے اور پارٹی کا رکن بننے کے لیے لوگوں کی حوصلہ افزائی بھی کی جاتی ہے۔

پارٹی نے ماضی میں خوردہ شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری جیسے مسائل پر فیس بک پر لائیو چیٹس بھی منعقد کروائیں اور ٹاؤن ہال میٹنگز کی معلومات بھی مہیا کرائی۔

پارٹی کے اعلیٰ رہنما ٹوئٹر پر سرگرم ہیں۔ چاہے وہ سشما سوراج ہوں یا نریندر مودی۔

ادھر وسندھرا راجے اور نریندر مودی جیسے لیڈروں کے پاس موبائل پر لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے اپنے ذاتی ایپس بھی ہیں جہاں پر ان کے پروگراموں اور جلسوں کے بارے میں مکمل معلومات بھی دی جاتی ہے۔

پارٹی کی حکمت عملی کے بارے میں جماعت کے ڈیجیٹل یونٹ کے سربراہ اروند گپتا کہتے ہیں ’بھارت کا نوجوان طبقہ انٹرنیٹ پر ہے۔ جو اعداد و شمار ہیں وہ کہتے ہیں کہ بھارت کے لوگ انٹرنیٹ پر کافی وقت گزارتے ہیں۔ پارٹی کی حکمت عملی صرف سوشل میڈیا کی نہیں بلکہ ہمیں اپنی بات، نظریات اور پالیسیوں کو عوام تک پہنچانا ہے۔‘

اروند نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا ’کئی بار کچھ پریس کانفرنس اگر میڈیا نہیں کرتی ہے تو اسے ہم یوٹیوب، فیس بک اور ویب سائٹ پر ڈالتے ہیں۔ ہم اپنے سوشل میڈیا پر سیاسی بحث و مباحثہ چلاتے ہیں۔‘

نورنگ ایس بي پارٹی کے سوشل میڈیا کا کام دیکھتے ہیں۔ نورنگ سافٹ ویئر انڈسٹری میں کام کر چکے ہیں لیکن سیاست میں دلچسپی اُنہیں پارٹی میں کھینچ لائی۔

نورنگ اپنے موبائل پر فیس بک چیک کرتے ہوئے کہتے ہیں: ’کئی بار لوگ تبصرے کرتے ہیں۔ شکایتیں بھی کرتے ہیں مشورہ بھی دیتے ہیں۔ ہم کئی بار ان کا جواب دیتے ہیں۔ کئی بار جواب نہیں دیتےلیکن جو کہا جاتا ہے فیس بک پر یا ٹوئٹر پر ہم کڑی نظر رکھتے ہیں۔ اس سے ایک طبقے کے بارے میں پتہ چلتا ہے کہ وہ پارٹی سے کیا چاہتا ہے۔‘

Image caption بی جے پی انٹرنٹ پر کوئز وغیرہ منعقد کراتی ہے

لوگوں کو متحد کرنے پر پارٹی منتر کو واضح کرتے ہوئے نورنگ کہتے ہیں: ’جب تک آن لائن کو آف لائن سے نہیں جوڑا جائے گا یہ ممکن نہیں ہو سکتا ہے۔ ہم نے آن لائن ممبرشپ شروع کیا تھا تاکہ لوگ وہیں پیسہ دے سکیں۔ ہم نے آن لائن ڈونیشن کا انتظام کیا ہے۔ فیس بک پر ہم كوئز منعقد کرتے ہیں۔ پارٹی سے منسلک سوال پوچھتے ہیں ۔صحیح جواب دینے والوں کو پارٹی آفس میں بلا ان کی عزت افزائی کرتے ہیں۔‘

اگرچہ انتخابات پر سوشل میڈیا کے اثر کے حوالے سے پارٹی کی رائے یہی ہے کہ اسے متبادل میڈیا کے ساتھ جوڑ کر دیکھا جانا چاہئے کیونکہ نوجوان طبقے کو اگر شامل کیا جا سکتا ہے تو اس کے لیے سوشل میڈیا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔

کانگریس اور چھوٹی جماعتوں کے مقابلے بی جے پی کا سوشل میڈیا کافی منظّم ہے لیکن کانگریس جیسی جماعت رسمی صفحات کے ذریعہ بی جے پی کی سوشل میڈیا مہم کا سامنا کر رہی ہے۔ ساتھ ہی عام آدمی پارٹی جیسی جماعت سوشل میڈیا کا استعمال بہت مختلف طریقے سے کر رہی ہے۔ ایسے میں بی جے پی کے سامنے چیلنج ہوگا کہ وہ عام آدمی پارٹی اور کانگریس کی حکمت عملی کا سامنا کیسے کرتی ہے؟

اسی بارے میں