ماؤنوازوں کا مسافر ٹرین پر حملہ، 3 ہلاک

Image caption ماؤنواز باغیوں کا کہنا ہے کہ وہ عام طور پر بھارتی فورسز سے ہتھیار حاصل کرتے ہیں

بھارتی ریاست بہار میں ماؤ نواز باغیوں نے جموئی سٹیشن کے قریب دھنباد - پٹنہ انٹرسٹي ٹرین پر حملہ کیا ہے جس میں بہار پولیس کا ایک سب انسپکٹر، سی آر پی ایف کا ایک جوان اور ایک مسافر ہلاک ہو گیا۔

اس واقعے میں دو مزید افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔

ریاستی دارالحکومت پٹنہ میں محکمہ پولیس کے سربراہ ایس کے بھاردواج کا کہنا ہے کہ یہ ریل جب کندرا ریلوے سٹیشن پر رکی تو اس پر کچھ ماؤنواز باغی سوار ہوگئے اور گاڑی مشکل سے دو سو گز ہی چلی تھی کہ نکسلیوں نے زنجیر کھینچ کر اسے روک دیا۔

انہوں نے بتایا’دوپہر تقریباً ایک سے ڈیڑھ کے درمیان نکسلی پہلے سے ہی یہاں ٹرین کا انتظار کر رہے تھے۔ ٹرین کے رکتے ہی تقریباً سو کی تعداد میں موجود ان ماؤنواز باغیوں نے باہر سے ٹرین پر فائرنگ کی جس کے بعد ٹرین پر موجود سی آر پی ایف کے جوانوں نے جوابی کارروائی کی۔‘

حملے کے وقت انٹرسٹي ٹرین پر سی آر پی ایف كے پانچ جوان سوار تھے جن میں سے دو کے ہتھیار ماؤ نواز باغیوں نے چھین لیے۔

جموئی سٹیشن سے پہلے آنے کندرا ایک پہاڑی علاقہ ہے اور نکسلی یہاں ٹرین کا پہلے سے انتظار کر رہے تھے۔

اس دوران دلی میں داخلہ سیکرٹری آر پی این سنگھ نے کہا ہے کہ اس حملے کا مقصد سی آر پی ایف کے ہتھیار چھيننا تھا۔

ان کا کہنا تھا’حکومت نکسلیوں تک ہتھیار نہ پہنچنے کے مقصد میں کامیاب رہی ہے تو اب ماؤنواز ہتھیاروں کے لیے دوسرے طریقے اپنا رہے ہیں۔ یہ افسوسناک بات ہے کہ اب وہ عام لوگوں، ٹرینوں اور سیاستدانوں پر بھی حملے کر رہے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا’لیکن ماؤنوازوں کے خلاف حکومت کا جو عہد ہے وہ اسے جاری رکھے گي اور ہم ان کو روکنے کے لیے سخت قدم اٹھاتے رہیں گے۔‘

بہار کا جموئی ایک ایسا علاقہ ہے جہاں نکسلی حملے پہلے بھی ہوتے رہے ہیں۔ اس حملے کے واقعے کے بعد ٹرین جموئی سے معمول کے مطابق منزل کی طرف روانہ ہوگئی۔

اسی بارے میں