بھارت:دہلی میں سب سے زیادہ ریپ کے واقعات

Image caption دلی میں ریپ کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرے ہوتے رہے ہیں

دہلی شہر بھارت کا دارالحکومت ہے لیکن اگر اس شہر کو ریپ کا دارالحکومت کہا جائے تو شاید غلط نہیں ہوگا جہاں دیگر تمام بڑے شہروں کے مقابلے جنسی زيادتی کے سب سے زیادہ واقعات پیش آتے ہیں۔

این سي آر بی یعنی نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کی رپورٹ کے مطابق 2012 میں دہلی میں ریپ کے سب سے زیادہ واقعات درج کیے گئے۔

این سی آر بی کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ برس دہلی میں جنسی زیادتی کی تقریباً چھ سو وارداتیں ہوئیں جب کہ ملک کے دوسرے چار بڑے شہروں کو ملا کر اس سے کم، یعنی مجموعی طور پر تقریباً 500 جنسی زیادتی کے واقعات سامنے آئے۔

گذشتہ برس دسمبر میں دہلی میں ایک طالبہ کے ساتھ چلتی بس میں ہونے والے ریپ کے بعد خواتین کے خلاف ہونے والے جرائم، خاص طور پر جنسی زیادتی کے واقعات پر لوگوں کی نظریں پہلے کے مقابلے میں اب زیادہ رہتی ہیں۔

اس واقعے کے خلاف دہلی سمیت کئی شہروں میں حکومت کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے جس کے بعد حکومت نے ریپ سے متعلق قوانین میں تبدیلی کرتے ہوئے سخت قوانین وضع کیے ہیں۔

این سي آر بي کے مطابق دہلی شہر میں تقریباً 75 لاکھ خواتین رہتی ہیں۔ اس کے اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2012 میں جنسی زيادتی کے 585 واقعات درج کیے گئے۔

اس کے برعکس ممبئی میں 223، کولکتہ میں 68، چینائی میں 94اور بنگلور میں 90 واقعات پیش آئے۔ یعنی مجموعی طور ان چارے بڑے شہروں میں 484 واقعات پیش آئے جو دہلی سے کم ہیں۔

دہلی، ممبئی اور کولکتہ جیسے بڑے شہروں کی آبادی ایک کروڑ سے بھی زیادہ ہے۔ ان بڑے شہروں میں خواتین کے خلاف تشدد کے زمرے میں بھی دہلی سب سے آگے ہے۔

این سی بی آر نے 2012 میں مجموعی طور پر 53 بڑے شہروں میں سروے کیا تھا جس کے مطابق خواتین کے خلاف ہونے والے جرائم میں دہلی کا حصہ سب سے زیادہ یعنی 14.18 فیصد تھا۔

سال 2012 میں خواتین کے خلاف جرائم کے کل 5194 کیسز سامنے آئے۔ سال 2011 میں دہلی میں عورتوں کے خلاف پیش آنے والے تمام طرح کے واقعات کی تعداد 4489 تھی۔

پورے ملک کی بات کی جائے تو گذشتہ برس خواتین کے خلاف مجموعی طور پر دو لاکھ 44 ہزار 270 واقعات پیش آئے۔

لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں جنسی زيادتی اور عورتوں کے خلاف ہونے والے کئی دوسرے جرائم کے بہت سے کیس درج ہی نہیں کیے جاتے ہیں اور حالیہ دنوں میں کئی شہروں میں خواتین کے خلاف جرائم کے واقعات کا سامنے آنے کی ایک وجہ لوگوں میں بڑھتی ہوئی بیداری ہو سکتی ہے۔

اسی بارے میں