’اتر پردیش مودی کی راہ کا سب سے بڑا پتھر‘

نریندر مودی

سیاسی طور پر متنازع مانے جانے والے رہنما نریندر مودی کو حال ہی میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اگلے سال ہونے والے عام انتخابات میں اپنی انتخابی مہم کی کمان سونپی ہے۔

اس کے ساتھ ہی وزیر اعظم کے عہدے کے لیے ان کی ممکنہ دعوے میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ یہ بھی خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ سیاسی طور پر اہم ریاست اترپردیش کو جیتنا مودی کی اولین ترجیحات میں شامل ہوگا۔

جس وقت گوا میں نریندر مودی کو پارٹی کی انتخابی مہم کی کمان سونپی جارہی تھی اتر پردیش کا ماحول معمول پر تھا۔

ریاست اتر پردیش کے لوگوں میں بجلی کی کمی اور دوسری شہری سہولیات کے متعلق شکایات ہیں، غریبی ہے، بے روزگاری ہے۔

ایسے میں کیا یہ ہو سکتا ہے کہ ممکنہ وزیر اعظم کے کیریئر پر نظر رکھتے ہوئے لوگ نریندر مودی کو تسلیم کریں گے؟

وہ بھی ایک ایسے شخص کو جس کے سر منظم ڈھنگ سے ریاست کی انتظامیہ چلانے اور ریاست کی ترقی کا سہرا باندھا جاتا ہے۔

ایسا نہیں ہے۔ ایک دن کی تھکان بھری مہم کے بعد ریاست کے ایک تجربہ کار رہنما اور سابق پارلیمان افضل انصاری کہتے ہیں ’اتر پردیش میں سیاست آج بھی ذات پات کے اردگرد گھومتی ہے۔‘

Image caption مودی کے نام پر بی جے پی کی دوسری حلیف جماعتوں کو اعتراض ہے جن میں بہار کے وزیر اعلی نیتیش کمار سرفہرست ہیں

مجھے بتایا گیا کہ اس گاؤں میں دلتوں کے سرکردہ رہنما بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر کی مورتی لگائے جانے کی دلتوں کی مانگ پر دیگر پسماندہ ذاتوں سے تنازع جاری ہے۔

یہ ملک کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست ہے اور ملک کی پارلیمان یا ایوان زیریں میں سب سے زیادہ تعداد میں 80 رکن منتخب ہوکر یہاں سے جاتے ہیں۔

یہ وہ ریاست ہے جہاں بی جے پی کو 180 کا ہندسہ حاصل کرنے کے لیے ہوا کا رخ موڑنا ہوگا۔

یعنی بی جے پی کو کم از کم اتنے ارکانِ پارلیمان تو لانے ہی ہوں گے۔ یہاں یہ یاد رہے کہ اتر پردیش کے علاوہ کوئی دوسری ریاست ایسی نہیں جہاں بی جے پی کو آئندہ انتخابات میں فائدہ حاصل کرنے کا امکان ہو۔

لیکن فی الحال یہاں حالات ایسے ہیں کہ ہوا کا رخ بی جے پی کے بالکل خلاف ہے۔

گزشتہ عام انتخابات میں بی جے پی کو محض 10 نششتیں ہی مل پائی تھیں اور پارٹی کے مجموعی ووٹوں کی شرح میں بھی 4.7 فیصد کی کمی ہوئی تھی۔

اس کے بعد ہونے والے اسمبلی انتخابات کے نتائج بھی پارٹی کے لیے کوئی بہت زیادہ حوصلہ افزا نہیں رہے تھے۔

مودی کے پاس ہوا کا رخ موڑنے کا واحد طریقہ یہی ہے کہ وہ ووٹروں کو اس بات بات پر آمادہ کرلیں کہ عوام عام انتخابات میں مقامی مسائل پر قومی مسائل کو ترجیح دے۔

انتخابی ماہرین کا کہنا ہے کہ مودی کی راہ میں دو مشکلات ہیں جن کا حل انہیں تلاش کرنا ہوگا۔

پہلا یہ کہ ملک کے زیادہ تر حصوں میں عام انتخابات ریاستی انتخابات کی کڑی کا ہی ایک حصہ بن گئے ہیں۔

بھارت میں ہونے والے انتخابات پر نظر رکھنے والے ایک ماہر کا کہنا ہے کہ دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں یہاں ہونے والے عام انتخابات کے کردار میں قومی کہی جا سکنے والی بہت ہی کم چیزیں رہ گئی ہیں۔

مودی کی راہ میں دوسرا چیلنج ووٹوں کو سیٹوں اور جیت میں تبدیل کرنے کے معاملے میں بی جے پی کا خراب ریکارڈ رہا ہے۔

بی جے پی نے پارٹی کو ملے ہر ووٹ کے تناسب میں جتنی سیٹیں جیتی تھیں اس میں تسلسل کے ساتھ کمی دیکھی جا رہی ہے۔ سال 1999 میں یہ تناسب سب سے اونچی سطح پر تھا۔

Image caption مودی کے پاس ہوا کا رخ موڑنے کا واحد طریقہ یہی ہے کہ وہ ووٹروں کو اس بات بات پر آمادہ کرلیں کہ وہ عام انتخابات میں مقامی مسائل پر قومی مسائل کو ترجیح دیں

اس میں بہتری کا واضح طریقہ یہی ہو سکتا ہے کہ ووٹروں کا رجحان ایک بار پھر سے قومی مسائل کی جانب کیا جائے۔

انہیں اس بات کا بخوبی احساس ہے اور وہ پہلے بھی اس جانب اشارہ کر چکے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ وہ خود کو ترقی کے طور پر پیش کر رہے ہیں اور وہ گجرات میں ہوئی ترقی کے لیے ملے کریڈٹ سے استفادہ حاصل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

گزشتہ دو عام انتخابات کے نتائج کا رجحان دیکھیں تو یہ نظر آتا ہے کہ بھارت میں اب بھی کانگریس کو دہلی پر حکومت کے لیے فطری پارٹی کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

مودی کو اس روایت کو بھی توڑنا ہوگا۔

Image caption کانگریس گجرات میں ہونے والے مسلم کش فسادات کو مودی کی امیدواری کی صورت میں ضرور اٹھائے گی

مودی کانگریس کی سربراہ سونیا گاندھی اور ان کے بیٹے راہول کو لے کر بھی تلخ ہیں۔ لیکن یہ وہ جگہ ہے جہاں مودی خود کو مشکل حالات میں پاتے ہیں۔

مودی کو یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ آر ایس ایس کی قیادت ان سے مکمل طور پر خوش نہیں ہے۔

یہ بات قابل توجہ ہے کہ وزیر اعظم بننے کے لیے ان کی جدوجہد کے پہلے مرحلے میں انتخابی مہم کمیٹی کی کمان حاصل کرنے کے لیے سنگھ پریوار یعنی سخت گیر ہندو تنظیموں کی حمایت انتہائی اہم تھی۔

سنگھ کے حلقے میں یہ محسوس کیا جانے لگا ہے کہ گجرات اور بی جے پی ایک شخص کے اردگرد سمٹ کر رہ گئی ہے۔

اتنا ہی نہیں بلکہ سنگھ کی آواز سے بھی غفلت برتی جا رہی ہے جبکہ آر ایس ایس ہی وہ تنظیم تھی جس کی وجہ سے مودی سیاست میں آ سکے۔

سنگھ کے ایک سینئر رکن نے حال ہی میں مجھ سے کہا کہ مودی کو جو حمایت حاصل ہے اس کی وجہ سے ہی اعلیٰ قیادت اپنے مسائل کو نظر انداز کر کے کھل کر ان کی حمایت میں آ سکا۔

اسی دوران گوا میں پارٹی کی مجلس عاملہ کے اجلاس میں صاف طور پر یہ بات نظر آئی کہ بی جے پی قیادت کو مودی کی تقرری کو لے کر پارٹی کارکنوں کے دباؤ کا بھی سامنا ہے۔

Image caption مودی کے مقابلے کانگریس کی جانب سے راہول گاندھی کو پیش کیا جا سکتا ہے

اگر مودی ان مسائل پر ان کو مایوس کرتے ہیں تو جس زمین پر وہ کھڑے ہیں، وہ کھسک بھی سکتی ہے۔

چلیے اسی رسی کی جانب واپس لوٹتے ہیں جس پر مودی توازن لگانے کی کوشش میں کھڑے دکھائی دے رہے ہیں۔

ایک طرف اگر وہ ہندوؤں کے مسائل پر کافی توجہ نہیں دیتے تو انہیں اپنی سیاسی زمین کو کھونے کا خطرہ اٹھانا پڑ سکتا ہے۔

دوسری طرف مشکل اس بات کی بھی ہے کہ اگر وہ نسبتاً تنگ نظری کا شکار ہیں تو انہیں قومی لیڈر نہیں سمجھا جائے گا۔

کانگریس پارٹی بھی اس موقع کے انتظار میں ہے کہ وہ ووٹروں کو 2002 کے گجرات فسادات میں ان کا کردار یاد دلائے۔

سیاست کے ان ناہموار راستوں پر توازن برقرار رکھنا مودی کے لیے ایک مشکل چیلنج ثابت ہونے جا رہا ہے اور عام انتخابات کے آخری مقابلے میں پہنچنے سے پہلے مودی کا زوال بھی ہو سکتا ہے۔

اسی بارے میں