شمالی بھارت میں شدید بارشوں سے زندگي متاثر

Image caption گنگا اور بھاگیرت کی سطح زيادہ بڑھ جانے کی وجہ سے دریا کے آس پاس نصب کئی طرح کی مشینیں اور دیگر آلات کے ساتھ تقریبا ایک درجن مکانات بھی سیلاب میں بہہ گئے ہیں

بھارت کے شمالی علاقوں میں شدید بارشوں کے سبب زبردست جانی و مالی نقصان کی اطلاعات ہیں جس میں اب تک کم سے کم 70 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ مختلف علاقوں میں بہت سے لوگ لا پتا ہیں جبکہ 50 ہزار سے زیادہ لوگ مختلف مقامات پر سیلاب میں پھنسے ہوئے ہیں۔

ریاست اتر کھنڈ اور ہماچل پردیش میں مون سون وقت سے پہلے ہی پہنچ گيا اور شدید بارشوں نے تباہی مچا دی ہے۔ فوج اور دیگر فورسز امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

بی ایس ایف یعنی بارڈر سکیورٹی فورسز کے ہیلی کاپٹروں سے مدد لی جا رہی ہے لیکن حکام کا کہنا ہے کہ بارش نہ رکنے کے سبب امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔

سب سے زیادہ نقصان پہاڑی ریاست اتر کھنڈ میں ہوا ہے جہاں تودے گرنے کے بہت سے واقعات کے سبب اب تک 45 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

دہرادون میں نامہ نگار شالنی جوشی کا کہنا ہے کہ کئی علاقوں سے رابطہ منقطع ہوگيا ہے جسے بحال کرنے کی کوششیں ہورہی ہیں لیکن اب بھی بہت سے علاقوں سے رابطہ نہیں ہو پا رہا ہے اس لیے ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں اضافے کا امکان ہے۔

ان کے مطابق تین دنوں سے جاری موسلا دھار بارشوں کے سبب وہاں موجود مذہبی مقامات کے لیے سفر والے تمام راستے بند پڑے ہیں اور 30 ہزار سے زیادہ زائرین کئی مقامات پر پھنسے ہوئے ہیں۔

Image caption پہاڑی علاقوں میں گنگا، بھاگیرت، الكنندا جیسی دریاؤں میں طغیانی آئي ہوئی ہے اور ہردوار اور رشیکیش میں دریائےگنگا خطرے کے نشان سے ایک میٹر اوپر بہہ رہی ہے

حکام کے مطابق گڑھوال ڈویژن میں گنگوتري، يمنوتري، بدری ناتھ اور کیدار ناتھ جانے والے تمام راستے کئی مقامات پر کٹ گئے ہیں اور اس پر نقل و حرکت مکمل طور پر رک گئی ہے۔

اتر کھنڈ کا بیشتر حصہ پہاڑی علاقہ ہے اور کئي مقامات پر پہاڑیوں سے زمین کھسکنے کے سبب مکانوں اور سڑکوں پر ملبہ آ گرا ہے۔

ریاست میں ہندوؤں کی کئي مقدس زیارت گاہیں ہیں جہاں ہر روز لوگ ہزاروں کی تعداد میں زيارت کے لیے جاتے ہیں۔ موسم کے پیشِ نظر انتظامیہ نے لوگوں سے اس موسم میں اترکھنڈ نہ آنے کی اپیل کی ہے۔

بھارتی کرکٹ کھلاڑي ہربھجن سنگھ گذشتہ روز اولی کے مقام پر پھنس گئے تھے جو اب بھی وہاں سے نہیں نکل پائے ہیں۔ وہ اپنے خاندان کے ساتھ ہیمكنڈ صاحب جا رہے تھے لیکن راستہ بند ہونے اور پل ٹوٹ جانے کی وجہ سے وہ آگے نہیں جا پائے۔

پہاڑی علاقوں میں گنگا، بھاگیرت، الكنندا جیسی دریاؤں میں طغیانی آئي ہوئی ہے اور ہردوار اور رشیکیش میں دریائےگنگا خطرے کے نشان سے ایک میٹر اوپر بہہ رہی ہے۔

Image caption ہماچل پردیش سیاحت کے لیے معروف جگہ ہے جہاں سڑکوں کے دھنسنے اور پھٹنے سے حکام کے مطابق تقریبا دو ہزار سیاح پھنسے ہوئے ہیں۔

مقامی صحافی بلبیر پرمار کے مطابق گنگا اور بھاگیرت کی سطح زيادہ بڑھ جانے کی وجہ سے دریا کے آس پاس نصب کئی طرح کی مشینیں اور دیگر آلات کے ساتھ تقریباً ایک درجن مکانات بھی سیلاب میں بہہ گئے ہیں۔

کئی پلوں کو دریا کے تیز بہاؤ نے كاٹنا شروع کر دیا ہے اور کئی مقامات پر دریا سے تحفظ کے لیے بنائي گئی دیوار بھی بہہ گئی ہے۔ گنگوتري کا ہائی وے کئی مقامات پر دھنس گیا ہے۔

ہماچل پردیش کے مختلف علاقوں میں بھی یہی حال ہے جہاں دو روز سے ہورہی بارشوں سے اب تک دس افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔

ہماچل میں سب سے زیادہ متاثر قبائیلی ضلع کنّنور ہے جہاں کئی مقامات پر زمین کھسکنے اور سڑک دھنسنے کے سبب راستے جام ہوگئے ہیں۔

ہماچل پردیش سیاحت کے لیے معروف جگہ ہے جہاں حکام کے مطابق تقریبا دو ہزار سیاح پھنسے ہوئے ہیں۔

بارش سے ریاست اتر پردیش کے بھی بعض علاقے متاثر ہوئے ہیں جہاں 15 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔ ہریانہ اور یو پی میں اس وقت بیشتر دریاؤں میں طغیانی آئی ہوئی ہے۔

اسی بارے میں