نتیش کمار کی مودی پر سخت نکتہ چينی

Image caption بہار کے وزير اعلی نتیش کمار نے بی جے پی کے ساتھ اتحاد ختم کرنے کا اعلان کیا تھا

بھارت کی ریاست بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار نے اتحادی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی سے اتحاد توڑنے کے بعد ریاستی اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ حاصل کر لیا ہے۔

دو سو چونتیس رکنی اسمبلی میں انہیں 126 اراکین اسمبلی کی حمایت حاصل ہوئی جبکہ مخالفت میں 24 ووٹ پڑے۔

بہار اسمبلی میں جنتادل یو کو حکومت بچانے کے لیے ایک سو بائیس ارکان کی ضرورت تھی۔

جنتا دل یو کے ایک سو سترہ ممبران اسمبلی کے ساتھ کانگریس کے چار اراکین اسمبلی نے بھی ان کے حق میں ووٹ دیا۔

کانگریس کے علاوہ چار آزاد ارکان اسمبلی اور ایک سی پی آئی ایم کے رکن کی حمایت سے نتیش کمار ایوان میں اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔

دوسری جانب بی جے پی کے اراکین اسمبلی نے اعتماد کے ووٹ کا بائیکاٹ کیا۔

گجرات کے وزیراعلیٰ نریندر مودی کو بی جے پی کی انتخابی مہم کی کمیٹی کا سربراہ بنائے جانے کے بعد جنتا دل یو نے قومی جمہوری محاذ این ڈی اے سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔

بہار اسمبلی میں بی جے پی کے 91 ارکان ہیں اور اس سے قبل دونوں کی مخلوط حکومت تھی۔

اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے نتیش نے اسمبلی تقریر کرتے ہوئے نریندر مودی پر سخت نکتہ چینی کی اور بی جے پی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

گجرات میں مودی کے ترقیاتی پروگرام پر نکتہ چینی کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بہار میں بہار کا ماڈل چلے گا اور اب باہر بھی اس پر بحث ہوگی۔

’گجرات تو امیر ریاست ہے، بہار غریب ریاست ہے۔ لیکن گجرات میں میری معلومات کے حساب سے کم از کم یومیہ اجرت سو روپے کے آس پاس ہے جبکہ غریب ریاست بہار میں مزدو کی کم سے کم یویہ اجرت 162 روپے ہے۔‘

چند برس قبل بہار میں جب سیلاب آیا تو مودی نے پانچ کروڑ روپے بطور مدد فراہم کیے تھے لیکن مودی نے جو رویہ اپنایا تھا اس کا ذکر کرتے ہوئے نتیش نے مودی پر سخت تنقید کی۔

انہوں نے اپنے خطاب میں کہا’مدد کے نام پر آپ پانچ کروڑ روپے دے کر اخبار میں اشتہار چھپواتے ہیں۔ اس سے ہماری عزت نفس کو ٹھیس پہنچی اور ہم نے پیسہ واپس کر دیا۔ دوسری ریاستوں نے اس سے بڑی بڑی رقمیں بطور مدد مہیا کی تھیں لیکن انہوں نے اس کا ڈھنڈورا نہیں پیٹا۔‘

نتیش نے اس موقع پر ایک شعر بھی پڑھا’ آیا تو بار بار سندیسہ امیر کا، ہم سے مگر ہو نہ سکا سودا ضمیر کا۔‘

وزیراعلیٰ نتیش کمار نے پیر کے روز کہا تھا کہ ان کی اتحادی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے ایسی صورتحال پیدا کر دی تھی جس کے بعد جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) کے پاس اتحاد سے الگ ہونے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔

اسی بارے میں