اتراکھنڈ:امدادی آپریشن، خراب موسم کے باعت متاثر

Image caption دشوار گزار راستے اور خراب موسم امدادی کاموں میں سب سے بڑا مسئلہ ہیں

بھارت کی شمالی ریاست اتراکھنڈ میں بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں خراب موسم کے باعث امدادی کارروائیاں متاثر ہو رہی ہیں اور سات ہزار افراد دور افتادہ پہاڑی علاقوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔

اتراکھنڈ میں بارشوں اور سیلاب کے ایک ہفتے بعد بھی تاحال واضح نہیں ہو سکا کہ کتنے لوگ ہلاک اور لاپتہ ہیں۔

حکام نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ متاثرہ علاقوں میں خراب موسم کے باعث امدادی آپریشن میں مشکلات کا سامنا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ پیر کو خراب موسم کی وجہ سے ہیلی کاپٹروں کی پروازیں ممکن نہیں ہو سکیں۔

قدرتی آفت میں چھ سو سے زائد ہلاکتوں کی تصدیق کی گئی جبکہ 80 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔

اتوار کو اتراکھنڈ کے وزیراعلیٰ وجے بہوگنا نے کہا تھا کہ ہلاکتیں ایک سے زیادہ ہو سکتی ہیں۔

اتوار کی صبح بھی خراب موسم اور بارش کی وجہ سے فضائی ریسکیو آپریشن متاثر رہا لیکن دوپہر کے بعد موسم میں بہتری آنے سے امدادی کام پھر سے شروع کر دیا گیا۔

Image caption آنے والے دنوں میں بارش کی پیش گوئی کی جارہی ہے

اتراکھنڈ کے علاقے رشی کیش میں موجود بی بی سی کے نمائندے نتن شریواستو کا کہنا ہے کہ آنے والے دو دن ریسکیو آپریشن کے لیے انتہائی اہم ہونگے۔

دوسری جانب حکومت نے کہا ہے کہ وہ اس علاقے کے بارے میں طویل مدتی تعمیر نو کا پروگرام تیار کر رہی ہے لیکن فی الفور ترجیح پھنسے ہوئے لوگوں تک امداد پہنچانا ہے جو شدید موسم اور خوراک کی کمی کا شکار ہیں۔

امدادی کارروائیوں میں ٹیموں کی کمی آڑے آ رہی ہے۔ ڈاکٹروں کو پہاڑی علاقوں کی جانب ضرورت مندوں کی امداد کے لیے روانہ کیا جا رہا ہے۔

کہا جا رہا ہے کہ گزشتہ 60 برسوں کے ریکارڈ کے مطابق اس سال مون سون کے شروع میں ہونے والی بارشیں سب سے زیادہ ہیں۔

بی بی سی کے نمائندے کا کہنا ہے کہ امدادی کاموں میں سب بڑی مشکل دشوار گزار پہاڑی علاقہ اور لگاتار خراب موسم ہے۔

خوراک اور پینے کے پانی کی قلت کے ساتھ دوسری ضروری چیزوں کی کمی کے بارے میں بھی شکایتیں عام ہیں۔

وزیر اعظم نے اس قومی بحران سے نمٹنے کے لیے ایک ہزار کڑور کے پیکیج کا اعلان کیا ہے جس میں تقریباً ڈھیر سو کروڑ کی رقم فوری جاری کر دی گئی ہے۔ دوسری ریاستوں سے بھی امداد کا سلسلہ جاری ہے۔

اسی بارے میں